ورلڈ فوڈ پروگرام کیلئے6خصوصی طیارے اور 2ہیلی کاپٹراسلام آباد پہنچ گئے

ورلڈ فوڈ پروگرام کیلئے6خصوصی طیارے اور 2ہیلی کاپٹراسلام آباد پہنچ گئے
ہیلی کاپٹرپشاور ایئرپورٹ سے افغانستان میں خوراک پہنچانے کیلئے آپریٹ ہوں گے
متحدہ عرب امارات نے افغانستان کے لیے 60 ٹن خوراک اور ادویات پر مشتمل امدادی سامان پہنچا دیا
متحدہ عرب امارات کا طیارہ کابل ائیرپورٹ لینڈ کرگیا ہے جس میں امدادی سامان لایاگیا ہے، ذبیح اللہ مجاہد

اسلام آباد/کابل( ویب  نیوز) ورلڈ فوڈ پروگرام کیلئے6خصوصی طیارے اور 2ہیلی کاپٹراسلام آباد پہنچ گئے،ہیلی کاپٹرپشاور ایئرپورٹ سے افغانستان میں خوراک پہنچانے کیلئے آپریٹ ہوں گے۔کرائسز مینجمنٹ ڈویژن نے سی اے اے کو یو این کے ہیلی کاپٹر اور طیاروں کیلئے خصوصی این او سی جاری کیا تھا۔ورلڈ فوڈ پروگرام کاعملہ افغانستان میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے گا،فکس ونگ کے طیارے اسلام آباد ایئرپورٹ سے افغانستان کے لئے روانہ ہوں گے۔پاکستان نے یو این ورلڈ فوڈ پروگرام کو پاکستانی ایئرپورٹ استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے

۔دوسری طرف متحدہ عرب امارات نے افغانستان کے لیے 60 ٹن خوراک اور ادویات پر مشتمل امدادی سامان پہنچا دیاہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ متحدہ عرب امارات کا طیارہ کابل ائیرپورٹ لینڈ کرگیا ہے جس میں امدادی سامان لایاگیا ہے۔یواے ای کی جانب سے 60 ٹن خوراک اور ادویات بجھوائی گئی ہیں۔خیال رہے کہ برسوں سے جاری جنگ کے باعث لاکھوں کی تعداد میں لوگ وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں لیکن ایک بڑی اکثریت بے گھر ہو چکی ہے اور ملک کے لاکھوں افراد غربت اور افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں۔افغانستان میں جاری بحران کے باعث 2012 سے لے کر اب تک 50 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور دوبارہ اپنے گھر نہیں جا سکے ہیں۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں بے گھر ہونے والوں میں تیسری سب سے بڑی تعداد افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔کورونا وائرس کی وبا کے باعث افغانستان کے قومی وسائل پر مزید بوجھ بڑھا ہے اور ملک بھر میں لاک ڈان لگائے جانے کے بعد لوگوں کے لیے ذریعہ معاش تک رسائی بھی مشکل ہوئی ہے۔اقوام متحدہ کے امدادی امور کے ادارے کے مطابق ملک بھر کی 30 فیصد آبادی اس وقت غذائی قلت کے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔