سٹیٹ بینک نے کنزیومر فنانسنگ ضوابط میں ترامیم کر دیں

سٹیٹ بینک نے کنزیومر فنانسنگ ضوابط میں ترامیم کر دیں

بینکوں کو 5 روز میں پاکستان پہنچنے والی درآمدات کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت

گاڑیوں کی فنانسنگ کی زیادہ سے زیادہ حد 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی،اعلامیہ

کراچی (ویب ڈیسک)

ملک کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کنزیومر فنانسنگ کے ضوابط میں ترامیم کر دیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جار ی اعلامیئے کے مطابق طلب کے دبائو اور درآمدی نمو روکنے کے لیے کنزیومر فنانسنگ کے ضوابط میں ترامیم کی ہیں۔اعلامیئے کے مطابق درآمدی گاڑیوں کی فنانسنگ پر پابندی عائد کی جا رہی ہے، مقامی اسیمبل 1000 سی سی گاڑیاں، ذاتی قرض، کریڈٹ کارڈ فنانسنگ کے ریگولیٹری ضوابط سخت کئے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے اعلامیئے میں کہا کہ گاڑیوں کی فنانسنگ کی زیادہ سے زیادہ حد 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی، ذاتی قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 5 سال سے کم کر کے 4 سال کی جا رہی ہے۔اعلامیئے میں کہا گیا کہ اب 1 شخص گاڑی کی فنانسنگ کی مد میں بینکوں اور مالیاتی اداروں سے مجموعی طور پر 30 لاکھ قرض لے سکے گا۔سٹیٹ بینک نے اعلامیئے کے ذریعے بتایا ہے کہ گاڑی کی خریداری کی پیشگی ادائیگی 15 سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی گئی ۔اعلامیئے میں مزید کہا گیا کہ درآمدات کی ڈالر میں ادائیگیوں کی نگرانی اسٹیٹ بینک نے سخت کر دی ، بینکوں کو 5 لاکھ ڈالرز سے زائد درآمدی ادائیگیوں کی تفصیلات جمع کرانے کے احکامات جاری کئے گئے ۔سٹیٹ بینک کا اپنے اعلامیئے میں کہا کہ نئے احکامات سے قبل بینک 10 لاکھ ڈالر سے زائد ادائیگی کی تفصیلات جمع کراتے تھے، اب بینکوں کو 5 روز میں پاکستان پہنچنے والی درآمدات کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ۔