اسلامی یونیورسٹی تعزیتی ریفرنس ،،،جامعات کے سربراہان ،محققین، دانشوروں نے سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کیا

اسلامی یونیورسٹی میں سید علی گیلانی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

جامعات کے سربراہان ،محققین، دانشوروں نے سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کیا

سید علی گیلانی  مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ فوج کے درمیان چلتا پھرتا پاکستان تھے، سردار عتیق

 مسئلہ کشمیر دو کروڑ لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، جامعات مسئلہ کشمیر پر مباحثوں اور تحقیق کا انعقاد کریں

کشمیر میں جاری بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں نے انسانی تاریخ کو شرما دیا ہے، ڈاکٹر معصوم یاسین زئی   اور دیگر کا خطاب

اسلام آباد( ویب  نیوز)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے اقبال بین الاقوامی  ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ(آئی آر ڈی)کے زیر اہتمام معروف کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا جس میں ملک کی دس جامعات کے سربراہان سمیت محققین، دانشوروں اور  معاشرے کی دیگر اہم شخصیات نے کہا کہ سید علی گیلانی نے اپنی زندگی جدوجہد آزادی کے لیے وقف کر دی اور ہمیشہ کے لیے ظلم، جبرواستبداد اور غاصبوں کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔شرکا نے ان کی بے لوث، انتھک قائدانہ کاوشوں اور صلاحیتوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیر کی آزادی کی تحریک میں نئی جان ڈالی۔اسلامی یونیورسٹی  کے فیصل مسجد کیمپس میں منعقدہ "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” کے عنوان سے ریفرنس کے مہمان خصوصی سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عتیق احمد تھے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سید علی گیلانی دس لاکھ فوج کے درمیان چلتا پھرتا پاکستان تھے۔انہوں نے کہا کہ  وہ تحریک آزادی کشمیر کی سب سے توانا آواز تھے۔انہوں نے کہا کہ  جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے لاکھوں کشمیری اور سید علی گیلانی ہمارے محسن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ  خراج تحسین کشمیریوں کے ساتھ  دراصل اظہار یکجہتی ہے۔سردار عتیق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر دو کروڑ لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اس سے خطے کا مستقبل جڑا ہے۔اسلامی یونیورسٹی میں کشمیر ڈیسک کا قیام قابل ستائش ہے، جامعات پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سے جڑے موضوعات پر مباحثوں اور تحقیق کا انعقاد کریں۔ہندوستان ایک نہ ایک دن کشمیر سے واپس جاے گا،کشمیری اور پاکستانی ایک قوم ہیں اور لازم و ملزوم ہیں۔سید علی گیلانی جدوجہد آزادی کا ہمالیہ ہیں۔ریفرنس کی صدارت ریکٹر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کی۔انہوں نے کہا کہ  سید علی گیلانی کی پاکستان  سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اس مقصد کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں تاکہ خطہ کشمیر کو آزادی کا حق ملے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کا دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتا ہے، اسلامی یونیورسٹی  نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے اقوام عالم پر زور دیا کہ کشمیر میں جاری بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں نے انسانی تاریخ کو شرما دیا ہے، ستر سالوں سے بھارتی جبرو تشدد کو دیکھ کر بھی عالمی برادری آنکھ بند کیے ہوے جو افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد اسلامی یونیورسٹی میں کشمیر ڈیسک قائم کیاتاکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی بیانیہ عام کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے جوانوں پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کرکے دشمن کے ظلم کو  نے نقاب کریں. انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی میں حصہ ڈالنا ہماری قومی و دینی فریضہ ہے.وائس چانسلر آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر محمد کلیم عباسی نے سید علی گیلانی کی خدمات اور عالمی میڈیا کے عزم مصمم کے اعتراف کا ذکر کیا. انہوں نے کہا کہ بھارت کی غاصبانہ پالیسی بڑھ رہی ہے۔بھارت کے زور لگانے کے باوجود بھی سید علی گیلانی اور برہان وانی و مقبول بٹ جیسے لیڈروں کی قربانیوں کے باعث مسئلہ کشمیر شد ومد سے زندہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لوگوں نے کشمیریوں کو جو حوصلہ دیا اس نے دشمن کی  آواز کو دبانے میں ناکام کر دیا. انہوں نے کہاکہ کشمیر  کا بچہ بچہ پاکستان کا بلا تنخواہ  سپاہی ہے۔  اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ سید علی گیلانی کا ذکر ہر اس جگہ ہوگا جہاں قوموں کی آزادی کا ذکر ہوگا،  بیاسی سالہ زندگی  میں دشمن کے خلاف چٹان کی طرح ڈٹے رہے، انہوں نے کہا کہ جو شمع علی گیلانی نے جلائی اس کو ہمیں بجھنے نہیں دینا حتی کہ کشمیریوں کو ان کا حق مل جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سید علی گیلانی جدوجہد آزادی کا عظیم استعارہ ہیں، سید علی گیلانی کی پوری زندگی عزم مصمم اور بے لوث جدوجہد کی عظیم مثال ہے۔تقریب کے منتظم اور آئی آر ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر  ڈاکٹر حسن الامین نے کہا کہ سید علی گیلانی کی خدمات اور جدوجہد کا اعتراف ہم پر قرض ہے،انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام پاکستان کی دس جامعات میں پیش کیا جا رہا ہے جس میں ان تمام جامعات کے سربراہان بھی شریک ہیں-پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی نے کہا کہ  سید گیلانی عظیم رہنما تھے جن کے دشمن بھی معترف تھے، ان کی عشروں پر محیط جیلیں کاٹیں لیکن کشمیر کے لیے ان کی جدوجہد میں ہمیشہ اضافہ ہوا۔آپ کی خدمات کشمیر کی جدوجہد آزادی میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گے۔ڈاکٹر محمد ادریس وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی  نے اہنے خطاب میں کہا کہ سید علی گیلانی کی رحلت بہت بڑا سانحہ ہیاور کشمیر کی تاریخ میں ان کو ہمیشہ یاد رکھا جاے گا.  انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ سید علی  گیلانی کے نقش قدم پر چلتے ہوے کشمیریوں کی آواز بنیں۔پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، پرو وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے اپنے خطاب میں پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ علمی تعلق پر روشنی ڈالی. انہوں نے ان کی تصانیف اور جیل کے دوران لکھی تصنیف روداد قفس پر بھی روشنی ڈالی-پروفیسر ڈاکٹر سفیر اعوان، پرو ریکٹر نمل یونیورسٹی نے اپنے خطاب میں سید علی گیلانی کی علمی خدمات اور تحریک آزادی پر کبھی نہ تبدیل ہونے والے موقف پر روشنی ڈالی،انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی مزاحمت اور عزم مصمم کا استعارہ ہے جس نے برہان وانی جیسے عظیم سپوت پیدا کیے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیا الحق، سربراہ ادارہ تحقیقات اسلامی نے اشعار پڑھ کر سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کیا. پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی، وائس چانسلر بہاالدین زکریا یونیورسٹی نے کہا کہ سید علی گیلانی آزادی کشمیر کا سب سے روشن ستارہ ہیں. ریفرنس سینائب صدر جامعہ ڈاکٹر ایاز افسر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سید علی گیلانی کی زندگی آزادی کے متوالوں کے لیے مشعل راہ ہے اور اسلامی یونیورسٹی ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلیے تحقیق قور مباحثوں کا انعقاد جاری رکھے گی۔جامعہ کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ سید علی گیلانی کی رحلت ایک بڑا سانحہ ہے، انہوں نے جدوجہد آزادی کشمیر اور میڈیا کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر جامعہ کے کشمیر ڈیسک کے سربراہ ڈاکٹر محمد خان نے جدوجہد آزادی کشمیر کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی اور ڈیسک کے اقدامات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر شعبہ سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ڈاکٹر نور فاطمہ اور شعبہ تاریخ کے سربراہ ڈاکٹر اکمل حسین نے بھی اظہارِ خیال کیا اور سید علی گیلانی کو خراج تحسین پیش کیا۔اس موقع پر سید علی گیلانی مرحوم کی زندگی پر بننے والی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گء جبکہ ریفرنس کے آخر میں ڈاکٹر ظہیرالدین بہرام نے سید علی گیلانی کے بلند درجات کی دعا کروائی۔

#/S