ایف بی آر کے اقدامات کاروبار کرنے کو آسان بنانے کی حکومتی کوششوں پر پانی پھیر دیں گے، محمد ادریس

کراچی (ویب ڈیسک)

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد ادریس نے ایف بی آر کے شق جس میں ڈیفالٹرز کو ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے 24 گھنٹے قبل آگاہ کرنادینا لازمی قرار دینے کو منسوخ کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بدعنوانی کا دروازہ کھل جائے گا کیونکہ یہ ایف بی آرافسران کے لئے تاجر برادری کو ہراساں کرنے کا ایک اور ذریعہ ثابت ہوگا۔

کے سی سی آئی اور کراچی کی تاجر برادری ایف بی آر کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خزانہ شوکت ترین سے اپیل کرتی ہے کہ وہ کاروبار مخالف اقدامات کرنے سے ایف بی آر کو باز رکھیںکیونکہ یہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کی جانے والی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا  باعث بنیں گے۔صدر کے سی سی آئی نے نشاندہی کی کہ ایک ایسے وقت میں جب کاروباری اعتماد بتدریج بحال ہونا شروع ہوا ہے ایسے میں ایف بی آر نے کاروباری ماحول کوسازگار بنانے کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کو پس پردہ چھوڑ دیا۔تاجروصنعتکار برادری کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کہ ایف بی آر نے دو سال سے زائد پرانی ہدایات واپس لے لی ہیں جس کے تحت ٹیکس وصول کرنے والوں کو اکاؤنٹ ہولڈرز کو پیشگی اطلاع کے بغیر پیسے لینے سے روکا گیا تھا۔تاجروصنعتکار برادری اس اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے کیونکہ یہ نوٹیفکیشن اس وقت کے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ساتھ تفصیلی غور و خوض کے بعد جاری کیا گیا تھا۔محمد ادریس نے ایف بی آر کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال اور کرپشن کی طویل تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ مذکورہ شق کو منسوخ کرنا معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگا کیونکہ تاجروں کو وجہ معلوم ہوئے بغیر کاروباری لین دین اچانک منجمد ہو جائے گا جبکہ فنڈز کے بہاؤ میں کوئی رکاوٹ غیر ملکی خریداروں میں بھی عدم اعتماد پیدا کرے گی جو پاکستانی تاجروں کی سالمیت اور ساکھ کو نقصان پہنچائے گا جس کے ملکی معیشت پر شدید منفی اثرات اور کاروبار کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔یہ ٹیکس دائرہ کارکو وسیع کرنے کی مہم میں بھی رکاوٹ کا باعث بنے گا جو قومی مفاد کے  خلاف ہے۔ موجودہ حالات میں تاجروں اور سرمایہ کاروںکا اعتماد بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے تاہم یف بی آرکے حالیہ اقدام کے نتیجے میں ان کا اعتماد بری طرح متاثر ہوگا جب کہ ہمیں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور ہمیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے لہذا اس فیصلے کو بغیر سوچے سمجھے فوری طور پر واپس لینا ہوگا۔صدر کے سی سی آئی نے اسلام آباد میں وزیر خزانہ شوکت ترین کے ساتھ کراچی چیمبرکے وفد کی حال میں ہونے والی گزشتہ ملاقات کا حوالہ دیا جس میں وزیر توانائی حماد اظہر، وزیراعظم کے مشیر رزاق داؤد اور چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف قانون ساز تاجر برادری کو مکمل سہولت فراہم کرنے اور ٹیکسوں کے قوانین کو آسان بنانے کی یقین دہانی کراتے رہے ہیں لیکن دوسری طرف وہ صوابدیدی اختیارات جس کی تاجر برادری نے ہمیشہ بڑی مخالفت کی ہے ایک بار پھر کمشنر کی سطح پر واپس دیے جارہے ہیںجو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔