ملک بھر میں شدیدگرمی، کئی شہروں کا پارہ 50 ڈگری تک پہنچ گیا

18 مئی سے گرمی مزید بڑ ھنے کا امکان

اسلا م آباد(ویب  نیوز)ملک کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی کا راج ہے، کئی شہروں کا پارہ 50 ڈگری تک پہنچ گیا، جیکب آباد اور سبی میں پارے نے ففٹی بھی کراس کرلی، محکمہ موسمیات نے 18 مئی سے گرمی کی شدت میں مزید اضافے کی پیشگوئی کردی۔آگ برساتا سورج اور لو کے تھپیڑے، ملک کے میدانی علاقے تنور بن گئے، پنجاب اور سندھ میں شہری گرمی سے جھلسنے لگے، سڑکوں پر رش کم ہوگیا، لوگ گھروں تک محدود ہوگئے۔ ملک بھر میں مئی کے دوران گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔لاہور میں پارہ 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا تو شہری نڈھال ہوگئے، اسلام آباد اور کراچی میں درجہ حرارت 42 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ پنجاب کے شہر بھکر، بہاولپور اوربہاولنگرمیں پارہ 47 سینٹی گریڈ رہا۔ ڈی جی میٹ صاحبزاد خان کا کہنا ہے 18 مئی سے گرمی مزید بڑھے گی۔سندھ کے میدانی علاقوں میں بھی سورج سوا نیزے پر آگیا، شہید بے نظیر آباد اور جیکب آباد کا پارہ 51 ڈگری تک پہنچ گیا۔ ڈیرہ غازی خان اور موہنجو داڑو میں 50  ڈگری کی گرمی پڑی۔سبی، دادو، سکرنڈ، خیرپور، لاڑکانہ اور پڈعیدن میں پارہ 49 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ سکھر، خیرپور، شکارپور، قمبر شہداد کوٹ اور دیگر شہروں میں بھی غضب کی گرمی پڑی۔ سورج کی تپش اتنی بڑھ گئی کہ چند منٹ ایک جگہ کھڑا رہنا بھی محال ہوگیا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے اگلے 24 گھنٹوں کے دوران بھی موسم گرم اور خشک رہے گا جبکہ میدانی علاقوں میں شدید گرمی پڑے گی، ملک بھر میں جاری ہیٹ ویو اگلے ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے،پی ایم ڈی سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے اکثر علاقوں میں 14 سے 17 مئی تک معمولی ریلیف کا امکان ہے کیونکہ مختلف علاقوں میں گرد آلود ہواں، آندھی اور بارش کے ساتھ طوفان ہوسکتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ تاہم دن کا درجہ حرارت 18 مئی سے دوبارہ بڑھ جائے گا۔پی ایم ڈی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جاری گرم اور خشک موسم سے پانی ذخائر، فصلوں، سبزیوں اور باغات پر دباو ہوسکتا ہے۔اس حوالے سے بتایاگیا کہ گرمی میں اضافے سے بجلی اور پانی کی طلب میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے اسی لیے ان کا استعمال ضرورت کے مطابق کیا جائے۔وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمن نے شہریوں سے ہیٹ اسٹروک اور گرمی کی حدت سے بچنے کے لیے غیرمعمولی خیال رکھنے پر زور دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے نشان دہی کی کہ بزرگ شہری اور بچوں کو زیادہ خطرہ ہوسکتا ہے۔شیری رحمن کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے کے دوران دریاں کے بہا میں اضافے کی پیش گوئی سے مدد مل سکتی ہے، اس وقت تک شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ غیرضروری طور پر براہ راست دھوپ میں جانے سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ مزیدبرآن، پانی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے، جانوروں اور مویشیوں کے تحفظ کی بھی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے گرمی سے ہونے والی بیماریوں کی کئی علامات بھی جاری کیں، جس میں جسمانی حدت میں اضافہ، تھکن، سردرد، الٹی، متلی اور کمزور ربط شامل ہے۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے ضروری انتظامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔