وفاقی کابینہ کا پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

حکومت لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد پھیلانے کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی،رانا ثناء اللہ

عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، کسی کو اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی، دھرنوں سے معیشت خراب اور دیہاڑی دار مزدور متاثر ہو گا

یہ کوئی جمہوری مارچ نہیں بلکہ قوم کو تقسیم کرنے، ملک میں افراتفری اور انتشار کو فروغ دینے کے لیے کیا جارہا ہے

پی ٹی آئی نے اس سے پہلے بھی وعدہ خلافی کی تھی اور اب بھی یہ گالیوں سے گولیوں پر آگئے ہیں جس کے باعث لاہور میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شہید ہوگیا

ویسے یہ بڑے بہادر بنے پھرتے ہیں لیکن اب ان کی ساری قیادت پشاور میں اکٹھی ہے، کوئی اپنے گھروں پر نہیں،وزیر داخلہ کی کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزرا ء کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد(ویب  نیوز) وفاقی کابینہ نے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہر صورت روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، کسی کو اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ دھرنوں سے معیشت خراب اور دیہاڑی دار مزدور متاثر ہو گا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد پھیلانے کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔منگل کو وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے دوران پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں وفاقی وزرا ء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کوئی لانگ مارچ نہیں بلکہ یہ فتنہ فساد کا لانگ مارچ ہے ،یہ کوئی جمہوری مارچ نہیں بلکہ قوم کو تقسیم کرنے، ملک میں افراتفری اور انتشار کو فروغ دینے کے لیے کیا جارہا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ 2014 میں بھی انہوں نے کہا کہ ہم پر امن احتجاج کے لیے آرہے ہیں اور اسلام آباد کی انتظامیہ سے معاہدہ کیا کہ ایک جگہ پر محدود رہیں گے لیکن وہاں رکنے کے بجائے ریڈ زون میں داخل ہوئے، وزیراعظم ہائوس کا گھیرائو کیا، سول نافرمانی پر لوگوں کو اکسایا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ان تمام چیزوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے انہیں لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں روکا جائے گا تا کہ یہ قوم کو تقسیم کرنے، گمراہی کا ایجنڈا آگے نہ بڑھا سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اس سے پہلے بھی وعدہ خلافی کی تھی اور اب بھی یہ گالیوں سے گولیوں پر آگئے ہیں جس کے باعث لاہور میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شہید ہوگیا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ویسے یہ بڑے بہادر بنے پھرتے ہیں لیکن اب ان کی ساری قیادت پشاور میں اکٹھی ہے، کوئی اپنے گھروں پر نہیں، ساری لیڈر شپ کے پی کے سارے وسائل اور صوبائی فورسز کو ساتھ لے کر وفاق پر حملہ آور ہونے آرہے ہیں، یہ وہاں سے بڑے جتھے کی صورت میں آج (بدھ کو) آنا چاہتے ہیں، ایسا جتھا جس کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہ ہو، جو سرکاری وسائل کو غیر آئینی و غیر قانونی طریقے سے وفاق پر حملہ آور ہونے آرہا ہو اسے کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔رانا ثنا نے کہا کہ عمرانی فتنے کی گمراہی کا شکار لوگوں کو خبردار کرتا ہوں کہ اس گمراہی سے باہر نکلیں، یہ ایک  قومی مسئلہ ہے اور ملک کی بقا کا مسئلہ ہے، یہ بد بخت قوم کو تقسیم اور گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پر امن احتجاج اور اظہار رائے سب کا حق ہے مگر یہ پر امن احتجاج کرنے نہیں آرہے، یہ اس سے پہلے بھی پر امن احتجاج کا نام لے کر آئے تھے پھر جو ہوا سب کے سامنے ہے، اگر یہ احتجاج کو خونی احتجاج کا نام نہ دیتے تو ہم راستے میں حائل نہ ہوتے، اس لیے اس فتنے کو اسی مرحلے پر روکا جائے گا یہ بہت بڑی خدمت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو ریاست کے دارالحکومت کے محاصرے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اسلام آباد کے شہریوں، تاجروں کی جان مال کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہے، اسے ہر قیمت پر نبھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں خبردار کرتا ہوں ان تمام لوگوں کو جو عمرانی فتنے کا شکار ہوچکے ہیں، وہ اس گمراہی سے باہر نکلیں، یہ ایک قومی مسئلہ ہے، ملک کی بقاء کا مسئلہ ہے ۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ صرف اتحادی حکومت، ایک سیاسی جماعت یا ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے اور اس میں تمام اداروں، سیاسی جماعتوں، میڈیا کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے اور اس فتنے فساد کو روکنا چاہیے، اسے اسی مرحلے پر روک دیا جائے گا تو بہت بڑی خدمت ہوگی۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوری احتجاج، آزادی اظہارِ رائے، پر امن احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن یہ پر امن احتجاج نہیں کرنے آرہے، اس سے پہلے بھی جب یہ آئے تو پر امن احتجاج کا نام لے کر آئے تھے لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر یہ اسے کو خونی احتجاج کا نام نہ دیتے، لوگوں سے فتنہ فساد اور انارکی پھیلانے کی بات نہ کرتے تو ہم بالکل راستے میں حائل نہ ہوتے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں بہت حیرانی ہوئی کہ آج جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں کہا کہ اگر آپ اپنی جگہ پر محدود رہنے اور اس قسم کے کسی واقعے کو نہ دہرانے کی بات کرتے ہیں تو ہم آپ کے لیے کوئی آرڈر جاری کرسکتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا اور بیانِ حلفی دینے سے انکار کیا جس سے ان کے ارادے واضح ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ آکر ریاست کے دارلحکومت کا محاصرہ کریں اور ڈکٹیٹ کرے، اسلام آباد کے شہریوں، تاجروں کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہے جسے ہر صورت نبھایا جائے گا۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام(ف)کے رہنما مفتی اسد محمود نے کہا کہ میں رانا ثنا اللہ کی گفتگو کی تائید کرتا ہوں، 2014میں بھی دھرنے کا مقصد پاکستان کی سیاست اور معیشت کو تباہ کرنا تھا اور پونے 4سالہ دورِ حکومت پر اصلاحات کے نام پر جو قانون سازی ہوئی اس سے ملک اخلاقی اور معاشی پستی کی جانب گیا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنی گمراہی کے ذریعے قوم میں انتشار پھیلانے فساد پھیلانے کی کوشش کی چنانچہ ہم نے ضرورت محسوس کی کہ اگر ہم مل کر اس بحران کا مقابلہ نہیں کریں گے، پاکستانی عوام کی مشکلات کا مداوا نہیں کریں گے تو شاید ہم بھی مجرم ثابت ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کہ جب وزیر خارجہ، پاکستانی حکومت عالمی دنیا کو متوجہ کررہے ہیں، وہ اس بنیاد پر اسلام آباد آکر دنیا کو پیغام دینا چاہتا ہے کہ پاکستان میں غیر یقینی صورتحال ہے۔مفتی اسد محمود نے کہا کہ 2014میں بھی حجت تمام کی اور ایسا موقع فراہم نہیں کیا کہ آئین آپ کو اجازت دے اور ہم آپ کو روکیں لیکن پی ٹی وی سینٹر، سپریم کورٹ اور پارلیمان پر دھاوا بولا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو رعاتیں انہیں دستیاب تھیں وہ اب دستیاب نہیں ہوگیں یہ واضح پیغام ہے۔

#/S