”ٹیکنوکریٹ“ کے نام پر ”ٹیک اوور“ کا پلان بنایا جارہا ہے: حافظ حسین احمد
جوڑ توڑ کے ماہرین مصروف کراچی میں ”متحدہ“ کو ”متحد“ اور بلوچستان میں ”باپ“ کو ”منتشر“ کیا جارہا ہے
متحدہ کی ”پتنگ“ کو چیپیاں لگا کر اڑانے اور بلوچستان میں باپ کی ”گائے“ کوذبح کرکے تقسیم کیا جارہا ہے
”نیو ٹرل“ کے بغیر نہ”پتنگ“ اُڑ سکتی ہے اور نہ”گائے“ کی قربانی کی جاسکتی ہے،تبدیلیوں کے لیے بلوچستان کو منتخب کیا گیا ہے
آئین میں نہ ”ٹیکنو کریٹ“ کی گنجائش ہے اور نہ ”ٹیک اوور“ کی،ملک کے معاشی حالات پر قومی قیادت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا
کوئٹہ /کراچی /اسلام آباد (ویب نیوز  ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا کہ جوڑ توڑ کے ماہرین اپنے کام میں مصروف ہیں، کراچی میں ”متحدہ“ کو ”متحد“ اور بلوچستان میں ”باپ“ کو ”منتشر“ کیا جارہا ہے۔پیر کے روز جامعہ مطلع العلوم میں مختلف وفود اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی تبدیلیوں کے لیے بلوچستان کو منتخب کیا گیا ہے کیوں کہ تجربات کی لیبارٹری بلوچستان ہے۔ کراچی میں متحدہ کی ”پتنگ“ کو چیپیاں لگا کر اڑانے کی کوشش ہورہی ہے اور بلوچستان میں باپ کی ”گائے“ کوذبح کرکے اس کے حصے تقسیم کئے جارہے ہیں، ”نیو ٹرل“ کے بغیر نہ”پتنگ“ اُڑ سکتی ہے اور نہ”گائے“ کی قربانی کی جاسکتی ہے۔ جمعیت کے رہنما کے کہا کہ ”ٹیکنوکریٹ“ کے نام پر ”ٹیک اوور“ کرنے کا پلان بنایا جارہا ہے پاکستان کے آئین میں نہ ”ٹیکنو کریٹ“ کی گنجائش ہے اور نہ ”ٹیک اوور“ کی، حافظ حسین احمد نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں اور دہشت گردی نے ایک بار پھر پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ملک کی حالیہ صورتحال تشویشناک ہے ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی قیادت کو سنجیدہ ہوکر اہم فیصلہ کرنا ہوگا۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔