عطا الحق قاسمی تقرری کیس،سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میںدو رکنی بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار

کرپشن یا اقربا پروری کا کوئی ثبوت نہیں ملا، عطاء الحق قاسمی، اسحاق ڈار،پرویز رشید اورفواد حسن فواد سے 19کروڑ78لاکھ 67ہزار491روپے ریکوری کا حکم بھی   کالعدم قرار،

سپریم کورٹ نے پرویز رشید، اسحاق ڈاراورفواد حسن فواد کے خلاف میاں ثاقب نثار کی آبزرویشنز بھی حذف کروادیں

یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے شروع کیسے ہوا، اس عدالت نے کیوں نوٹس لیا۔کہاں لکھا ہے یہ عوامی مفاد کامعاملہ ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اسلام آباد(ویب  نیوز)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی)عطاء الحق قاسمی کی تقرری کیس کے حوالہ سے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میںدو رکنی بینچ کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا۔ عدالت نے عطاء الحق قاسمی، سابق وزیرخزانہ اورموجودہ وزیر خارجہ سینیٹرر محمد اسحاق ڈار، سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات پرویز رشید اور وزیر اعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد سے 19کروڑ78لاکھ 67ہزار491روپے ریکوری کا حکم بھی کالعدم قراردے دیا۔عدالت نے قراردیا ہے کہ پی ٹی وی کو 19کروڑ روپے سے زائد نقصان ہونے کے کوئی شواہد نہیں۔جبکہ عدالت نے پرویز رشید، اسحاق ڈاراورفواد حسن فواد کے خلاف میاں ثاقب نثار کی جانب سے دی گئی آبزرویشنز بھی حذف کروادیں۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ کوئی کرپشن یا اقرباپروری ثابت نہیں ہوئی۔ عدالت نے مستقبل میں عطا الحق قاسمی کی کسی بھی سرکاری محکمے میں بطور ڈائریکٹر تقرری پر پابندی بھی ختم کردی۔جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے شروع کیسے ہوا، اس عدالت نے کیوں نوٹس لیا۔  یہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 184-3میں کیسے آرہا ہے، کہاں لکھا ہے یہ عوامی مفاد کامعاملہ ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان اورنعیم اخترافغان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے عطاء الحق قاسمی، اسحاق ڈار، پرویز رشید اور فواد حسن فواد کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت عطاء الحق قاسمی کی جانب سے سینئر وکیل بیرسٹر محمد اکرم شیخ، پرویزرشید کی جانب سے بیرسٹر ظفراللہ خان، اسحاق ڈار کی جانب سے سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ ، پی ٹی وی کی جانب سے محمدنذیر جواد اور فواد حسن فواد ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے اسفسار کیا کہ پی ٹی وی کی جانب سے کون پیش ہورہا ہے۔ اس پر محمد نذیر جواد نے روسٹرم پرآکر بتایا کہ وہ پی ٹی وی کی جانب سے بطور وکیل پیش ہورہے ہیں اورانہیں درخواستوں پر اعتراض نہیں۔جسٹس عرفان سعادت خان کا کہنا تھا کہ پیسوں کی ادائیگی کون کرے گا۔ اس پر بیرسٹر ظفراللہ خان کا کہنا تھا کہ فیصلے کہا گیا ہے کہ ان کے مئوکل پرویز رشید 20فیصد رقم کی ادائیگی کریں گے۔  چیف جسٹس نے سوال کیا کہ عطاء الحق قاسمی نے استعفیٰ کیوں دیا تھا۔ اس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ خرابی صحت کی وجہ سے استعفیٰ دیا تھا۔اس پر عدالت نے وقفہ کردیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالتی وقفہ کے بعد اکرم شیخ سے سوال کیا کہ نمبرز مل گئے، دے دیتے نہ ہمیں پہلے نمبرز،19کروڑ کیسے بن گئے۔ اس پر سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ گراس سیلر ی اوردیگر تمام اخراجات اور مراعات شامل کر کے یہ رقم بنائی گئی ہے، عطاء الحق قاسمی کو ایم پی ون کی سہولیات دی گئی تھیں۔ فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ وزارت اطلاعات سے رپورٹ لی گئی ہے، کل 2کروڑ 30لاکھ روپے ہیں۔ فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ عطاء الحق قاسمی پی ٹی وی پر پروگرام بھی کرتے تھے اور میاں ثاقب نثار نے پروگرام کے وقت کے حساب سے سب سے مہنگاریٹ نکواکریہ رقم بنوائی تھی، عطاء الحق قاسمی کی تنخواہ 15لاکھ 80ہزار روپے ماہانہ تھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے شروع کیسے ہوا، اس عدالت نے کیوں نوٹس لیا۔ اس پر اکرم شیخ کاکہنا تھا کہ پی ٹی وی کے ایک اورکیس میں اس معاملہ کانوٹس لیا گیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے یہ رقم کہاں سے حاصل کی۔ اس پر پی ٹی وی کے وکیل کا کہنا تھا کہ آڈیٹرز کی رپورٹ سے حاصل کی گئی، کل رقم کے اعدادوشمار غلط ہیں جبکہ تنخواہ کی رقم کے اعدادوشمار درست ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 184-3میں کیسے آرہا ہے، کہاں لکھا ہے یہ عوامی مفاد کامعاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے فواد حسن فواد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا فواد صاحب! کیا عطاء الحق قاسمی آپ کے رشتہ دار تھے، اقرباپروری تورشتہ داروں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا عطاء الحق قاسمی کون ہیں۔اس پر فواد حسن فواد کا کہنا تھاکہ عطا ء الحق قاسمی کا 50سال سے ادب اور شاعری سے تعلق ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا آردر میں لکھا ہے یہ اقرباپروری ہے، ہرکسی کو چیئرمین پی ٹی وی نہیں لگایا جاسکتا۔ جسٹس عرفان سعادت خان کا کہنا تھا کہ کیا شاعر کے علاوہ کسی چینل کو چلانے کا تجربہ رکھتے تھے، کوئی توتجربہ ہونا چاہیئے کہ انہیں سرکاری ٹی وی کے سب سے بڑے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ فوادحسن فوا د کا کہنا تھا کہ عطاء الحق قاسمی پی ٹی وی کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز تھے، بورڈ نے انہیں چیئرمین بنایا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا 3کروڑ کچھ لیا ہے اور 38کروڑ کی بات غلط ہے؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا آرڈیٹرز عدالت نے مقررکئے تھے۔ اس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے مقررکیئے تھے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا تعیناتی سے قبل پوسٹ کا شتہار دیا گیا تھا۔ اس پر فواد حسن فواد کاکہنا تھا کہ کارپوریٹ سیکٹر رولز کے تحت اشتہار دینا ضروری نہیں تھا۔ اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ سابق ایم ڈی پی ٹی محمد مالک نے 22فروری2016کو اپنی مدت ملازمت مکمل کی اوران کی تنخواہ 13لاکھ 80ہزاروپے تھی۔ جسٹس عرفان سعادت خان کا اکرم شیخ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کیاآپ کے مئوکل نے تسلیم نہیں کیا کہ وہ رقم واپس کرنے کو تیار ہیں۔ اس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ نہیں کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس رقم کاتعین کیاآپ بار، بار آڈیٹرز کہہ رہے ہیں۔ فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ ایئرٹائم کا حساب کرکے رقم بنائی گئی۔چیف جسٹس کا اکرم شیخ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ پی ٹی وی کے پروگراموں میں جاتے ہیں توہ اس کے پیسے دیتے ہوں گے۔ اس پر اکرم شیخ کاکہنا تھا کہ میں پیسے نہیں لیتا۔ چیف جسٹس کہا کہنا تھا کہ میں بھی بہت پہلے پی ٹی وی پرکسی پروگرام میں گیا تھااوروہ پیسے لائے تھے لیکن میں نے نہیں لئے تھے۔ فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ میں نہ کیس میں پارٹی تھا اورنہ ہی مجھے نوٹس دیا گیا تھا، میں اُس وقت جیل میں تھا، میں نے جیل سے نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جیل میں کیوں تھے۔ اس پر فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ کسی اورمعاملہ میں نیب نے گرفتار کیااوراس میں بھی بعد میں باعزت بری ہو گیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ کیس حکومت کے دور میں گرفتار ہوئے۔ فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ جب آرڈر پاس ہوا توعمران خان کی حکومت تھی۔جسٹس عرفان سعادت خان کا سلمان اسلم بٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کیوں دلچسپی لے رہے تھے کہ خود فائل لے کر وزیر اعظم کے پاس لے گئے، اوروزیر اعظم سے دستخط کروائے۔ فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ میں حلف دینے کوتیارہوں کہ کوئی شخص انفرادی طور پر فائل وزیر اعظم کے پاس منظور ی کے لئے لے کر نہیں گیا بلکہ ایک پراسیس کے تحت ہی فائل گئی تھی۔ فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ مجھ سے منسوب عدالتی فیصلے میں دی گئی آبزرویشن حقائق کے منافی ہیں۔ عطا ء الحق قاسمی کے وکیل بیرسٹر محمد اکرم شیخ کا کہنا تھ اکہ سپریم کورٹ میں کیس آئین کے آرٹیکل 184-3 کے تحت بنتا ہی نہیں تھا، سپریم کورٹ خود آڈیٹر بن گئی تھی۔دوران سماعت پی ٹی وی کے وکیل  محمد نذیر جواد نے تسلیم کیا کہ عدالت کی طرف سے19کروڑ روپے سے زائد نقصان کی طے کردہ رقم کا تعین درست نہیں۔چیف جسٹس کا حکم لکھواتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی اورکیس کی سماعت کے دوران 29جنوری 2018کو یہ معاملہ سامنے آیا، فواد حسن فود کے بقول عطاء الحق قاسمی کبھی ایم ڈی پی ٹی وی نہیں رہے۔ ایک سال 7ماہ ایم ڈی پی ٹی وی کاعہدہ خالی رہا۔ 23ستمبر2017کو ایم ڈی پی ٹی وی کی تعیناتی کے لئے اشتہار دیا گیا تاہم کوئی موزوں امیدوارنہیںملا۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے سمری بھجوائی گئی کہ عطاء الحق قاسمی کو ڈائریکٹر اورچیئرمین لگایا جائے۔ عطاء الحق قاسمی نے دوسال میں 2کروڑ70لاکھ روپے وصول کیئے،سپریم کورٹ نے 26فروری2018کو آڈیٹرز مقرر کئے۔ فواد حسن فواد کے بقول فیصلہ کہتا ہے کہ عطاء الحق قاسمی کی تعیناتی غیر قانونی تھی، فیصلے میں لکھا گیا کہ 19کروڑ سے زائد کانقصان ہوا اوریہ فریقین سے وصول کیا جائے۔ تمام فریقین نے نظرثانی درخواستیں دائر کیں۔ اکرم شیخ نے بتایا کہ کیس آئین کے آرٹیکل 184-3کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، عطاء الحق کو رقم کی ادائیگی کے حوالہ سے بات درست نہیں اور انہوں نے 18دسمبر2017کو استعفیٰ دیا۔ بیرسٹر ظفراللہ خان نے اکرم شیخ کے دلائل کی حمایت کرتے کہا کہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری قانون کے مطابق تھی، 20فیصد رقم پرویز رشید سے وصول کرنے کاحکم دیا تھا، عطاء الحق قاسمی نہ پرویز رشید کے رشتہ دار تھے اورنہ ہی کوئی اورتعلق تھا، کرپشن اوراقرباپروری کاکوئی الزام نہیں بنتا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب وزیر نہیں توپھر استثنیٰ ختم ہوجاتا ہے۔ اسحاق دار بیرون ملک تھے اورانہوں نے جواب دیا تھا۔ چیف جسٹس نے فواد حسن فواد سے نام میں دو مرتبہ فواد آنے کی وجہ پوچھی اورکہا کیا یہ نیویارک، نیویارک کی طرح نہیں۔ اس پر فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ میں شاعر بھی ہوں اور دوسرا فواد شاعری کی وجہ سے لکھتا ہوں۔ فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ میرے خلاف فیصلے میں آبزرویشن دی گئی کہ میں نے فائل پر صیح غوروفکر نہیں کیا اور تین ناموں کا پینل وزیر اعظم کو نہیں بھجوایا، یہ آبزرویشنز ان پر لاگونہیں ہوتیں ، وزیر اعظم نے کبھی بھی عطاء الحق قاسمی کی بطور ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کی منظوری نہیں دی، عطاء الحق قاسمی نے بطورایم ڈی پی ٹی وی کوئی اضافی مراعات نہیں لیں، عطاء الحق قاسمی کی 15لاکھ 80ہزارتنخواہ تھی۔ پی ٹی وی وکیل کا کہنا تھا کہ تنخواہ کے حوالہ سے اعدادوشمار درست ہیں جبکہ دیگر مراعات کے حوالہ سے اعدادوشمار درست نہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم ریکارڈ کاجائزہ لیا 19کروڑ سے زائر رقم کی ادائیگی نہیں ہوئی اورپی ٹی وی کوکوئی نقصان نہیں ہوا جبکہ تنخواہ قابل توجیح ہے کیونکہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری سے دوسال قبل سابق ایم ڈی پی ٹی وی محمد مالک 13لاکھ 80ہزار تنخواہ لے رہے تھے۔عطاء لحق قاسمی، اسحاق ڈار، پرویز رشید اور فوادحسن فواد سے رقم کی ریکوری کے حوالہ سے مطالبہ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں، عطاء الحق قاسمی کا کسی سے کوئی تعلق نہیں اس لئے اقرباپروری کاالزام بھی چابت نہیں ہوتا۔ درخواست گزار فیصلے پر نظر ثانی کے حوالہ کیس ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اس لئے کوئی رقم واجب الادا نہیں، عطاء الحق قاسمی اوردیگر کے خلاف دی گئی آبزرویشنز حذف کی جاتی ہیں۔ جبکہ مستقبل میں عطاء الحق قاسمی کو کسی سرکاری ادارے کا ڈائریکٹر نہ لگانے کے حوالہ سے بھی گئی آبزرویشنز کالعدم قراردی جاتی ہیں۔واضح رہے سابق چیف میاں ثاقب نثار نے ایک اور کیس میں عطا الحق قاسمی کی تقرری پر ازخود نوٹس لیا تھا۔ میاںثاقب نثار اورسابق چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کیس کی سماعت کی تھی اور 8نومبر2018کو عطاء الحق قاسمی کی تقرری کو کالعدم قراردے دیا تھا اورانہیں وصول کی گئی تنخواہیں اور مراعات کی رقم واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔ ZS

#/S