…4.. ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس کا تحریری فیصلہ جاری
بی این پی کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست مسترد ، سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ لیز منسوخی کا آرڈر قانونی قرار
انویسٹرز حقوق کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتے ہیں، درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مالیاتی شرائط کی پاسداری نہیں کی۔

اسلام آباد: (خصوصی رپورٹر ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بی این پی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست مسترد کر دی، عدالت نے سی ڈی اے کی جانب سے 8 مارچ 2023 کو جاری کردہ لیز منسوخی کے آرڈر کو قانونی قرار دے دیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ محمد سرفراز ڈوگر نے تحریری فیصلہ جاری کیا، بی این پی لمیٹڈ کی جانب سے دائر کردہ ایگزیکیوشن پٹیشن بھی عدالت نے خارج کر دی، عدالت نے تیسرے فریق (انویسٹرز) کی درخواستیں نمٹا دیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ انویسٹرز اپنے حقوق کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتے ہیں، درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مالیاتی شرائط کی پاسداری نہیں کی۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کمپنی 2022 کی قسط کے 2.916 ارب روپے جمع کرانے میں ناکام رہی، سی ڈی اے کی جانب سے لیز کی منسوخی سپریم کورٹ کے دیئے گئے حق کے عین مطابق ہے۔
فیصلے کے مطابق پٹیشنر نے سپریم کورٹ کے دیئے گئے لائف لائن موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا، عدالت نے پٹیشنر کی جانب سے 30 روزہ نوٹس کی تکنیکی غلطی کے اعتراض کو بھی مسترد کر دیا۔
سپریم کورٹ نے 9 جنوری 2019 کو لیز بحال کرتے ہوئے 8 سال میں 17.5 ارب روپے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، بی این پی لمیٹڈ نے 2021 کی قسط جمع کرائی لیکن 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔
سی ڈی اے نے بار بار یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا، پٹیشنر کی جانب سے 50 کروڑ روپے کا چیک عدالت نے ناکافی قرار دے دیا۔





