امریکہ  نے ایرانی بندرگاہوں کا گھیراؤ کیا ہوا ہے، آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ ہے، ایران کو ٹیکس وصول کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکی وزیر جنگ

 ایران نے آبنائے ہرمز میں واضح جارحیت کا مظاہرہ کیا اور اس کے 6 بحری جہازوں نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، تاہم امریکی نیوی نے انہیں واپس مڑنے پر مجبور کر دیا۔  ’پروجیکٹ فریڈم‘ ایک عارضی اور دفاعی مشن ہے، پیٹ ہیگسیتھ

آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ، ایران کو قبضے کی اجازت نہیں دیں گے: امریکی وزیر جنگ

واشنگٹن میں امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور جنرل ڈین کین نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں ایران پر سمندری جارحیت کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا خطے میں کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا، تاہم جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں واضح جارحیت کا مظاہرہ کیا اور اس کے 6 بحری جہازوں نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، تاہم امریکی نیوی نے انہیں واپس مڑنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ ایک عارضی اور دفاعی مشن ہے، جس کا مقصد عالمی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے۔

امریکی وزیرِ جنگ کے مطابق ایران طویل عرصے سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ہراساں کر رہا ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں مزید سینکڑوں جہاز گزرنے کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کا کسی اور ملک کے خلاف کارروائی کا ارادہ نہیں، لیکن ایرانی حملوں کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔

دوسری جانب جنرل ڈین کین نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد ایران تجارتی جہازوں پر 9 بار فائرنگ کر چکا ہے اور دو جہازوں پر قبضہ بھی کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فورسز چھوٹی کشتیوں اور ڈرونز کے ذریعے کارروائیاں کر رہی ہیں، تاہم امریکا اور اتحادی ممالک ان خطرات سے نمٹ رہے ہیں۔

جنرل کین کے مطابق ناکہ بندی آپریشن میں 15 ہزار امریکی اہلکار شریک ہیں اور اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی ہے، انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ دانستہ طور پر جنگ کی سطح سے نیچے رہ کر کارروائیاں کر رہا ہے اور اس کا طرز عمل ’سمندری ڈاکوؤں‘ جیسا ہے۔

امریکی حکام نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ اہم سمندری گزرگاہ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف
whatsapp sharing button

انہوں نے کہا کہ توانائی اور شپنگ کے راستوں کو جان بوجھ کر متاثر کیا گیا، مخالف قوتوں کے اقدامات کے باوجود برائی کمزور پڑے گی۔

باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال امریکہ کے لیے ناقابل برداشت بنتی جا رہی ہے، جبکہ ہم نے ابھی باقاعدہ آغاز نہیں کیا، ایران ابھی اپنی اصل حکمت عملی کا آغاز بھی نہیں کر رہا۔

علاوہ ازیں ایرانی وزیر خارجہ عبّاس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں کے باعث امریکا سے بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کو اپنا برا چاہنے والوں سے محتاط رہنا چاہیے جو امریکا کو پھر سے دلدل میں گھسیٹنا چاہتے ہیں، اسی طرح متحدہ عرب امارات کو بھی محتاط رہنا چاہئے۔

پاکستان کی کوششوں سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے: عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات سے متعلق تجاویز پر ملکی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی۔

عباس عراقچی نے ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جہاں انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز اور سفارشات سے اراکین کو آگاہ کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کونسل کو خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے جاری کوششوں سے متعلق تازہ پیش رفت پر بھی اعتماد میں لیا۔

ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹیوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مذاکرات میں ایران کے مفادات کو اولین ترجیح دی جانی چاہئے۔

امریکہ نے سول کشتیوں کو نشانہ بنایا، یو اے ای پر حملے ردعمل تھا: پاسداران انقلاب

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ امریکی افواج نے عمان کے ساحل سے ایران کے ساحلوں کی جانب جانے والی عوامی سامان بردار دو چھوٹی کشتیوں پر حملہ اور فائرنگ کی اور انہیں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان میں سوار پانچ عام شہری شہید ہو گئے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کی سات چھوٹی فوجی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے، ان کشتیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے۔

ترجمان پاسدارن انقلاب کے مطابق فجیرہ میں تیل تنصیبات پر حملے کا کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا، فجیرہ بندرگاہ پر جو کچھ ہوا وہ امریکی فوج کی مہم جوئی کا نتیجہ تھا۔

ترجمان کے مطابق یو اے ای ایران پر حالیہ حملوں میں ملوث ہے، متحدہ عرب امارات کے خلاف کارروائی جوابی ردعمل تھا، مزید حملے ہوئے تو ایران اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔