ای او بی آئی کرپشن کیس،سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ سے تفصیلات طلب کرلیں

بتایا جائے کہ کیسے ای اوبی آئی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ زمینوں کی خریدوفروخت کے کاروبار میں سرمایاکاری کرے، 13سال سے نہ پیسے ہیں اور نہ ہی زمین ہے،یہ خطرناک صورتحال ہے۔ سپریم کورٹ

اسلام آباد( ویب  نیوز)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ای او بی آئی کرپشن کیس کی کارروا ئی میں ٹرائل کورٹ سے ابتک کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ٹرائل کی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کردی۔عدالت نے قراردیا ہے کہ بتایا جائے کہ کیسے ای اوبی آئی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ زمینوں کی خریدوفروخت کے کاروبار میں سرمایاکاری کرے، 13سال سے نہ پیسے ہیں اور نہ ہی زمین ہے،یہ خطرناک صورتحال ہے۔ جبکہ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگاکہ 13سال سے پیسے لے گئے اور زمین بھی نہیں دی،حکومت کے ادارے کہاں جائیں گے۔ یہ ای اوبی آئی کے پاس کہاں سے اختیار آگیا کہ وہ جائیدادوں کی خریدوفروخت میں سرمایاکاری کرے گی،یہ توپینشنرز کی رقم ہے، ای اوبی آئی ریئل اسٹیٹ کے کاروبارسے ڈیل نہیں کرتی۔ درخواست گزار کی ای اوبی آئی سے ملی بھگت ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی منظور ی کے بغیر پلاٹ نہیں بیچ سکتے۔ 1 ارب 15کروڑ روپے کاسودہ ہوا، ای اوبی آئی نے رقم اداکردی، ز مین تھی نہیں اور پیسے لے لئے۔ ای اوبی آئی معاہدہ نہیں کرسکتی تھی، درخواست گزار کے پاس منظور شدہ سوسائٹی نہیں تھی اس لئے پلاٹ نہیں بیچ سکتے تھے۔ درخواست گزار نے 654پلاٹ 2013میں ای اوبی آئی کو فروخت کئے، رقم بھی وصول کرلی اور کوئی پلاٹ بھی نہیں دیئے، نہ کوئی ٹرائل ہورہا ہے اور نہ ہی ملزمان گرفتار ہیں۔جبکہ جسٹس نعیم اخترافغان کادرخواست گزار عمار احمد کے وکیل سید علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ کیاہم نے آپ کوعبوری ضمانت دی ہے، ہم نے ضمانت بھی نہیں دی، سمجھ نہیں آرہی پتانہیں کیسے کیس چل رہاہے۔ سوموار کے روزجسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل 3رکنی بینچ نے ملزم عمار احمد خان کی جانب سے دائر درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری جبکہ ای اوبی آئی کی جانب سے سابق ڈی جی ای اوبی آئی ظفراقبال گوندل،مسمات شازیہ عمار، ثریہ بی بی،اسحاق خسرو اوردیگر کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر درخواستوں پرسماعت کی۔ ملزم عمار احمد خان کی82 سالہ ساس ثریہ بی بی کے علاوہ دیگرتمام ملزمان پیش ہوئے۔ رخواست گزار کی جانب سے وکیل سینیٹر بیرسٹر سید علی ظفر پیش ہوئے۔سپریم کورٹ کے حکم پر ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹرمحمد عثمان انور پیش ہوئے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منوراقبال دوگل جبکہ ای اوبی آئی کی جانب سے محمد عمر ریاض بطور وکیل پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر منوراقبال دوگل نے ججز کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ عدالتی حکم پر ڈی جی ایف آئی اے بینچ کے سامنے پیش ہوگئے ہیں۔جسٹس شاہد وحید کاڈی جی ایف آئی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ درخواست گزار نے 654پلاٹ 2013میں ای اوبی آئی کو فروخت کئے، رقم بھی وصول کرلی اور کوئی پلاٹ بھی نہیں دیئے، نہ کوئی ٹرائل ہورہا ہے اور نہ ہی ملزمان گرفتار ہیں۔ اس پر ڈاکٹر عثمان انورکاکہناتھا کہ اب تک کیس میں 115سے120سماعتیں ہوچکی ہیں، زیادہ ترسماعتوں پر درخواست گزار نے التوالیاہے، ہم کیس کوچلانا چاہتے ہیں، عدالت حکم دے گی توملزمان پر فرد جرم عائد کروانے کی کاروائی کی جائے گی۔اس پر جسٹس نعیم اخترافغان کاکہناتھا کہ کیاہماری ہدایت پر فردجرم عائد کریں گے۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ ایف آئی اے کہہ رہی ہے ہم بھرپورطریقہ سے کیس چلانا چاہتے ہیں تاہم 13سال سے پراسیکیوشن کیس نہیں چلارہی، اب تک فرد جرم عائد نہیں ہوئی۔ جسٹس شاہد وحید نے ڈی جی ایف آئی کو کرسی پر بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کے بینچ کے سامنے پیش ہونے پر اُن کاشکریہ اداکیا۔جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ یہ ای اوبی آئی کے پاس کہاں سے اختیار آگیا کہ وہ جائیدادوں کی خریدوفروخت میں سرمایاکاری کرے گی،یہ توپینشنرز کی رقم ہے، ای اوبی آئی ریئل اسٹیٹ کے کاروبارسے ڈیل نہیں کرتی۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ وکیل سید علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ درخواست گزار کی ای اوبی آئی سے ملی بھگت ہے۔ سید علی ظفر کاکہناتھا کہ پاک عرب ہائوسنگ سوسائٹی کاای اوبی آئی سے 20فروری2013کو معاہدہ ہوا اورلاہورمیں فیروز پور روڈ پر654پلاٹ ڈویلپ کرکے دینے تھے۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ پلاٹ ایف بلاک میں بیچے جو ڈویلپ نہیں ہواتھا، یہ حقائق ہیں، سوسائٹی ایل ڈی اے کی طرف سے منظور شدہ بھی نہیں تھی۔ سید علی ظفر کاکہناتھا کہ 79کمرشل اور 575کمرشل پلاٹ خریدے گئے۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ ایل ڈی اے کی منظور ی کے بغیر پلاٹ نہیں بیچ سکتے۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ1 ارب 15کروڑ روپے کاسودہ ہوا، ای اوبی آئی نے رقم اداکردی، ز مین تھی نہیں اور پیسے لے لئے۔ سید علی ظفر کاکہناتھا کہ 18دیگر کمپنیوں کے ساتھ بھی ای اوبی آئی نے جائیدادیں خریدنے کامعاہدہ کیا۔ سید علی ظفرکاکہناتھاالزام تھا کہ سستی زمینیں مہنگے داموں خرید رہے ہیں۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ ای اوبی آئی معاہدہ نہیں کرسکتی تھی، درخواست گزار کے پاس منظور شدہ سوسائٹی نہیں تھی اس لئے پلاٹ نہیں بیچ سکتے تھے۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ کیا سارے ملزمان عدالت میں موجود ہیں۔ اس پر کمرہ عدالت میں موجود سارے ملزمان نے کھڑے ہوہاتھ کھڑے کئے۔ سید علی ظفر کاکہناتھا کہ درخواست گزار کی 82سالہ ساس عدالت میں موجود نہیں وہ نہیں آسکتی تھیں اس لئے وہ لاہور رجسٹری میں موجود ہیں۔جسٹس شاہد وحید نے عدالتی عملے کوہدایت کی کہ لاہوررجسٹر ی سے معلوم کریں۔ بعد ازاں معلوم ہواکہ وہ لاہور رجسٹری میں بھی موجود نہیں۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ کیوں نہ خاتون کی ضمانت منسوخ کردیں، عدالتی حکم کے باوجود پیش نہیں ہوئیں اور کوئی درخواست بھی نہیں دی۔ اس پر سید علی ظفر کاکہناتھا کہ خاتون کی عمر 82سال ہے۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ ملزمہ کی عمر 82سال ہے توکیا ہوا، وہ ملزمہ ہیں۔ جسٹس محمد شفیع صدیقی کاکہناتھا کہ کمرہ عدالت میں موجود ای اوبی آئی کے وکیل محمد عمرریاض سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ آپ خاموشی سے بیٹھے ہیں، آپ نے 13سال سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، ہم ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر نوٹس جاری کررہے ہیں۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ بتایا جائے کہ کیسے ای اوبی آئی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ زمینوں کی خریدوفروخت کے کاروبار میں سرمایاکاری کرے، 13سال سے نہ پیسے ہیں اور نہ ہی زمین ہے،یہ خطرناک صورتحال ہے۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہناتھا کہ ٹرائل کورٹ کی تازہ ترین آرڈر شیٹس لگائیں۔ جسٹس شاہد وحید کا ڈی جی ایف آئی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ ٹرائل کوتیز کریں، سوسائٹی ابھی تک ایل ڈی اے سے منظور نہیں ہوئی۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگاکہ 13سال سے پیسے لے گئے اور زمین بھی نہیں دی،حکومت کے ادارے کہاں جائیں گے۔جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ ای اوبی آئی افسران کی ضمانتیں صرف اس بنیاد پر ہوگئیں کہ انہوں نے کہا ہم نے معاہدے پر دستخط نہیں کئے۔ ڈی جی ایف آئی اے کاکہناتھا کہ کچھ زمینیں دریائوں میں خریدی گئیں۔ سید علی ظفر کاکہناتھا کہ انہیں ججز کی آبزویشنز پر شدید اعتراض ہے،یہ ٹرائل پر اثرانداز ہوں گی۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ ہم ابھی درخواستوں پر نوٹس جاری کررہے ہیں۔ جسٹس نعیم اخترافغان کادرخواست گزار عمار احمد کے وکیل سید علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ کیاہم نے آپ کوعبوری ضمانت دی ہے، ہم نے ضمانت بھی نہیں دی، سمجھ نہیں آرہی پتانہیں کیسے کیس چل رہاہے۔ بینچ نے ای او بی آئی کی جانب سے ملزمان کی ضمانت منسوخی درخواستوں پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت ملتوی کردی۔ZS