امریکی حملوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے نتیجے میں ’’تمام سفارتی عمل مکمل طور پر معطل ہو جائیں گے۔‘‘ امریکی اڈے ’’آنے والے دنوں میں جہنم کا سامنا کریں گے۔‘‘ ایرانی پاسدارانِ انقلاب

سپر  (ایران امریکہ کشیدگی ) جارحیت کی تو سخت جواب ملے گا ( ترجمان وزارتِ خارجہ )

ایران نے حالیہ امریکی فوجی حملوں کو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملے مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ

امریکہ اور ایران نے خلیج کے علاقے میں ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے. ایک امریکی عہدیدار نے فوجی اڈوں پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال ابھی بھی تبدیل ہو رہی ہے، تاہم اب تک مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر کسی جانی نقصان یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

تہران  (  ما نیٹرنگ ڈیسک ) 

 ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ایران نے حالیہ امریکی فوجی حملوں کو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملے مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ان حملوں سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’وعدہ خلافی امریکی حکومت کی فطرت کا حصہ ہے۔‘‘

ترجمان کے مطابق ایران اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے اور ملک کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

امریکہ اور ایران نے خلیج کے علاقے میں ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر تقریباً دو ہفتے قبل طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جس کا مقصد چار ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ تھا۔

امریکی   صدر   کی جانب سے یہ انتباہ دینے کے چند ہی گھنٹوں بعد کہ امریکہ ’’فوجی کارروائی مکمل کر سکتا ہے‘‘، ایران نے اتوار کی صبح کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

امریکی فوج نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے ایران پر دوبارہ حملے کیے ہیں۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹے بعد کی گئی، جو دنیا کی اہم ترین توانائی بردار بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور تنازع کے دوران ایران نے اسے بڑی حد تک بند رکھا تھا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی عبوری معاہدے کا مقصد لڑائی روکنا، آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم مسائل پر مذاکرات کا آغاز کرنا تھا۔

ایک امریکی عہدیدار نے فوجی اڈوں پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال ابھی بھی تبدیل ہو رہی ہے، تاہم اب تک مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر کسی جانی نقصان یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے نتیجے میں ’’تمام سفارتی عمل مکمل طور پر معطل ہو جائیں گے۔‘‘ سرکاری ٹی وی کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں موجود امریکی اڈے ’’آنے والے دنوں میں جہنم کا سامنا کریں گے۔‘‘