کے پی میں گورنر فیصل کریم کنڈی انتظامی سربراہ مقرر: چیف سیکرٹری سمیت 15 اعلیٰ افسران کو ہٹا دیا گیا، ڈاکٹر فخر عالم نئے چیف سیکرٹری نامزد 5 سینئر افسران کی خدمات فوری طور پر خیبرپختونخوا حکومت کے سپرد کر دی گئی ہیں
خیبرپختونخوا، ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ( صدرا تی گزیٹ نوٹیفکیشن)
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عمل میں آئیں۔ ۔صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی کے سرکاری ‘ایکس’ اکاؤنٹ سے بھی ان کی گرفتاری کی تصدیق پوسٹ کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں ”ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ” قائم کرنے کا فیصلہ ، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان شامل ہیں
ایڈمنسٹریٹر نامزد اضلاع میں صوبائی حکومت کے تمام انتظامی، انتظامیاتی اور قانون نافذ کرنے سے متعلق اختیارات استعمال کریں گے، انہیں گورننس، سکیورٹی اور ترقی کے لیے تنظیمی ڈھانچے قائم کرنے اور ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی نگرانی کا اختیار حاصل ہوگا۔
صدرِ مملکت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان جاری، فوری طور پر نافذ العمل ہوگا،صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور پرتشدد کارروائیوں میں غیر معمولی اضافے کے پیشِ نظر ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
صدارتی فرمان میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں سے عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں، دہشت گردوں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے، سرکاری تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا، فرمان
اِسی طرح صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکام رہی،گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی نشاندہی کی گئی۔

حکم نامے کے مطابق خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے، صوبے کی صورتحال نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پاکستان کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی خطرہ قرار
.jpg)
وفاقی حکومت گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دے سکے گی، گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات اور فرائض انجام دے سکیں گے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے اختیار کردہ ادارے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑ دیں گے
دوسرا انٹرو
پشاوراسلام آباد( صباح نیوز): خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی نمائندے کی حیثیت سے گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے کا انتظامی سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے، جو صوبے کے تمام حکومتی و انتظامی امور کی براہِ راست نگرانی کریں گے۔ انتظامیہ کا چارج سنبھالتے ہی صوبائی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے چیف سیکرٹری شہاب علی سمیت 15 اعلیٰ افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ادھر وفاقی حکومت نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) کے 5 سینئر افسران کی خدمات فوری طور پر خیبرپختونخوا حکومت کے سپرد کر دی ہیں۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 22 کے سینئر افسر ڈاکٹر فخر عالم عرفان کو خیبرپختونخوا کا نیا چیف سیکرٹری تعینات کر دیا گیا ہے۔صوبے میں تعینات کیے جانے والے دیگر اعلیٰ افسران میں محمد یحیٰی اخونزادہ (گریڈ 20)،خواجہ محمد سکندر ذیشان (گریڈ 19)،اقبال حسین (گریڈ 19)،میجر (ر) اورنگزیب بدینی (گریڈ 18) شامل ہیں یہ اہم انتظامی اقدامات اور تبدیلیاں صوبے میں امن و امان کی بحالی، سکیورٹی صورتحال میں سدھار اور نظم و نسق کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے کی گئی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عمل میں آئیں۔ ۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی کے سرکاری ‘ایکس’ اکاؤنٹ سے بھی ان کی گرفتاری کی تصدیق پوسٹ کی گئی ہے۔صدر آصف علی زردار کی منظوری کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا ہے۔اس کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے کارکنوں کو پشاور کی طرف نکلنے کی کال دی تھی۔ دوسری طرف فیصل کریم کنڈی وفاقی نمائندے کی حیثیت سے صوبے کے انتظامی سربراہ مقرر کیے گئے ہیں
تیسرا انٹرو
اسلام آباد(صباح نیوز) وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے چیدہ چیدہ اضلاع میں امن و امان کے قیام، عوام کے تحفظ، بہتر گورننس اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے ‘ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ’ (ADS) فوری طور پر قائم کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ وفاقی حکمنامے کے مطابق ایریا ڈیویلپمنٹ سیکریٹریٹ ایریا ریپریزنٹیٹو و ڈیویلپمنٹ کونسل کی نگرانی میں کام کرے گا، اے آر ڈی سی نامزد اضلاع کی معزز شخصیات پر مشتمل ہوگی جس کی سربراہی چیٔرمین کریں گے، چیٔرمین، وائس چیٔرمین، ترجمان اور ارکان کی تقرری مقررہ طریقہ کار اور مدت کے مطابق کی جائے گی۔ نامزد اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا (نامزد اضلاع) ایریا ڈیویلپمنٹ سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے اور یہی اہلکار ان اضلاع کے ایڈمنسٹریٹر بھی ہوں گے۔ نامزد اضلاع میں تعینات صوبائی حکومت کے افسران اور دیگر اداروں کے اہلکار ایریا ڈیویلپمنٹ سیکریٹریٹ کے انتظامی اور آپریشنل کنٹرول میں ہوں گے، مزید تعیناتیوں اور تبادلوں کا حکم ایڈمنسٹریٹر کی سفارش پر وزیراعظم وقتا فوقتا دے سکیں گے۔ ایڈمنسٹریٹر نامزد اضلاع میں صوبائی حکومت کے تمام انتظامی، انتظامیاتی اور قانون نافذ کرنے سے متعلق اختیارات استعمال کریں گے، انہیں گورننس، سکیورٹی اور ترقی کے لیے تنظیمی ڈھانچے قائم کرنے اور ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی نگرانی کا اختیار حاصل ہوگا۔ ایڈمنسٹریٹر سول انتظامیہ، پولیس اور فوجی حکام کو ہدایات جاری کر سکیں گے اور ایریا ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ کے آپریشنل، تنظیمی و انتظامی امور کے ساتھ فنڈز کی تقسیم و منتقلی کے احکامات بھی جاری کر سکیں گے۔ وفاقی اداروں، مسلح افواج اور صوبائی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے قانون نافذ کرنے اور سکیورٹی کے امور بہتر بنائے جائیں گے، عوامی تحفظ، معاشی استحکام، امدادی سرگرمیوں اور بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے محکموں کی تنظیمِ نو اور ضروری اقدامات بھی کیے جا سکیں گے۔ ایڈمنسٹریٹر کے جاری کردہ احکامات، نوٹیفکیشنز، ہدایات اور اقدامات کو وہی قانونی حیثیت حاصل ہوگی جو صوبائی حکومت کے احکامات کو حاصل ہوتی ہے۔ وفاقی حکمنامے کے تحت نامزد اضلاع میں آئین کے باب سوم، حصہ چہارم اور آرٹیکل 175 کی شق (3) سے متعلق مذکورہ دفعات اور خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کا اطلاق نہیں ہوگا، یہ حکمنامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
وفاق نے خیبر پختونخوا میں فوج تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا
فوج کی تعیناتی انتظامیہ کی معاونت کے لیے ہوگی، فوج شہریوں کی جان کے تحفظ کے لیے تعینات کی جا رہی ہے،نوٹیفکیشن
اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی انتظامیہ کی معاونت کے لیے ہوگی، فوج شہریوں کی جان کے تحفظ کے لیے تعینات کی جا رہی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق شہریوں کے جان و مال، سرکاری تنصیبات کی سیکیورٹی فوج کے ذمے ہوگی۔






