اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ دوحہ میں دھماکے کے ذریعے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس قبل اسرائیلی بم باری سے دوحہ کا علاقہ کتارا کئی دھماکوں سے گونج اٹھا تھا

ایک اسرائیلی عہدے دار کا کہنا ہے کہ دوحہ میں حماس رہنماؤں پر حملے سے پہلے امریکا کو اطلاع دی گئی تھی، امریکا نے حماس رہنماؤں پر حملے میں مدد فراہم کی ہے۔

 فضائی حملے کے وقت حماس کے متعدد رہنماؤں کا اجلاس جاری تھا اور اجلاس میں حماس رہنما غزہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر کی تجویز پر غور کر رہے تھے۔  عرب میڈیا

دوحہ (  ویب نیوز ) 

اسرائیلی فورسز نے دوحہ کے علاقے قطارہ میں فضائی حملہ کرکے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ اور ظہیر جبرین کو شہید کردیا۔ تل ابیب سے جاری بیان میں اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ دوحہ میں دھماکے کے ذریعے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس قبل اسرائیلی بم باری سے دوحہ کا علاقہ کتارا کئی دھماکوں سے گونج اٹھا تھا، مقامی افراد نے متعدد عمارتوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی، دھماکوں سے شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

حماس ذرائع کے مطابق فضائی حملے کے وقت حماس کے متعدد رہنماؤں کا اجلاس جاری تھا اور اجلاس میں حماس رہنما غزہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر کی تجویز پر غور کر رہے تھے۔  عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی بم باری کے دوران اجلاس میں حماس کے 5 سینئر رہنما خالد مشعل، خلیل الحیہ، ظہیر جبران، محمد درویش اور ابو مرزوق موجود تھے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ اور ظہیر جبران شہید ہوگئے۔ ایک اسرائیلی عہدے دار کا کہنا ہے کہ دوحہ میں حماس رہنماؤں پر حملے سے پہلے امریکا کو اطلاع دی گئی تھی، امریکا نے حماس رہنماؤں پر حملے میں مدد فراہم کی ہے۔  قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دوحہ میں حماس رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل نے ہماری سالمیت اور خودمختاری پر حملہ کیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیل کا مجرمانہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسرائیل کے شر انگیز حملے نے عوام اور قطر میں مقیم غیر ملکیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی حملے کی تحقیقات جاری ہے، مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔