FILE PHOTO: A Turkish flag flutters atop the Turkish embassy as an Israeli flag is seen nearby, in Tel Aviv, Israel June 26, 2016. REUTERS/Baz Ratner/File Photo

اسرائیلی قیادت کی ترکیہ کو دھمکیاں: انقرہ اور استنبول میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے

مشرقِ وسطیٰ نئے اور خطرناک دور میں داخل، سفارت کاری کی جگہ میزائلوں نے لے لی

استنبول(ویب  نیوز)

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی اطلاعات کے بعد ترکیہ سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں شدید بے چینی اور خوف پھیل گیا ہے۔ اوٹ لک میں   افتخار گیلانی   کی رپورٹ کے مطابق ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں بظاہر زندگی معمول کے مطابق نظر آتی ہے؛ سڑکوں پر گاڑیاں رواں دواں ہیں اور قہوہ خانے کھلے ہیں، لیکن گھروں کے اندر اور اسمارٹ فونز کی اسکرینوں پر ایک انجانا خوف تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انقرہ سے تہران تک عوام کو محسوس ہو رہا ہے کہ اب سفارت کاری ناکام اور جغرافیائی حدود بے معنی ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، انقرہ اور استنبول کی گلیوں اور کیفے خانوں میں ایک ہی بحث چھڑی ہے کہ اگر تہران محفوظ نہیں ہے تو انقرہ، دوحہ یا بغداد کیسے محفوظ ہو سکتے ہیں؟ ترکیہ کے شہریوں کا ماننا ہے کہ جدید میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی نے فاصلوں کو ختم کر دیا ہے اور اب ہر دارالحکومت نشانے پر ہے۔ اسرائیلی رہنماؤں، بشمول سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے بیانات نے ترکیہ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بینیٹ نے ترکیہ کو ایک ”زویرک اور خطرناک حریف” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو تہران اور انقرہ دونوں سے لاحق خطرات کا بیک وقت مقابلہ کرنا چاہیے۔ انقرہ میں ان بیانات کو انتخابی نعرہ بازی کے بجائے ایک اسٹریٹجک سگنل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک جیو پولیٹیکل زلزلہ ہے جو خطے کے نقشے کو دہائیوں کے لیے بدل سکتا ہے۔ پروفیسر ولی نصر کے مطابق، اسرائیل کا ہدف اب صرف ایران نہیں بلکہ ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور قطر پر مشتمل وسیع تر سنی بلاک بھی ہو سکتا ہے۔ ترکیہ پہلے ہی لاکھوں شامی مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، اب ایران میں عدم استحکام کی صورت میں ہجرت کی نئی لہر کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے متاثر ہونے سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران اور معاشی تباہی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔