سرکاری دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،افسروں کے بیرون ملک دوروں پر پابندی، سکول31 مارچ تک بند: وزیراعظمsharethis sharing button

اسلام آباد:(ویب  نیوز)
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والے نقصانات کے پاکستان پر بھی اثرات پڑ رہے ہیں، سرکاری دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے، بیرون ملک دوروں پر پابندی، سکول دو ہفتے بند رہیں گے۔

وفاقی دارالحکومت میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں اِس وقت جنگ کا ماحول ہے، بدقسمتی سے پورے خطے میں اِس وقت شدید کشیدگی ہے ، اِن حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی کو مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کا سامنا ہے ، پاکستان معاملات سفارت کاری کے ذریعے حل کرانے کی کوشش کررہا ہے ، پاکستان آزمائش کی گھڑی میں متاثرہ ممالک کے ساتھ ہے، عالمی سطح پر ہونے والے نقصانات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالات جونہی بدلے تیل کی قیمتیں قابو سے باہر ہو گئیں، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا، ہمارے پاس بھی تیل کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔

شہبازشریف نے کہا کہ بحران کے پیشِ ںظر ہفتے میں چار دن دفاتر کھلے گے، ورک فرام ہوم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،50 فیصد ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے اور آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری گاڑیوں میں 50 فیصد فی الفور کٹوتی کی جا رہی ہے،فوری طور پر تمام سکولوں میں دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جارہی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ آج کےاجلاس میں بہت اہم فیصلے کیے گئے، وقت آ گیا ہے اشرافیہ آگے بڑھے، صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھیں، آئندہ دو ماہ کے لیے 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو بند کیا جا رہا ہے، آئندہ دو ماہ کے لیے وزرا، مشیران، معاونین خصوصی تنخواہ نہیں لیں گے، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری محکموں میں گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر دیگر اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے سیمینار ہوٹلوں کے بجائے سرکاری دفاتر میں منعقد ہوں گے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ مفاد پرست عناصر، ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں موجودہ صورتِ حال سے ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو گی۔

اُنہوں نے کہا کہ آج دنیا کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، دنیا میں نئے اتحاد بن رہے ہیں، اِس نازک ترین موڑ پر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر اتحاد، قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے، رمضان المبارک کا مقدس مہینہ صبر، اخوت، ایثار، قربانی کا درس دیتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک مضبوط اور باوقار قوم وہ ہوتی ہے جو مشکل کی گھڑی میں باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتی ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد سے پاکستان میں معاشی حالات مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔