امریکی وفد ممکنہ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ رہا ہے۔ ایران کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت ممکنہ طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقرقالیباف کریں گے۔

سپر (ایران جنگ بندی مشن) فریقین اور ثالث ممالک کے مذاکرات کا امکان

پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے ایران کو مذاکرات پرآمادہ کرنے کیلیے بیک ڈور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان، ترکیے اور مصرمشترکہ رہنمائی کر رہے ہیں۔  امکان ہے امریکی مذاکراتی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں آئے۔ الجزیرہ

پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کے فروغ کیلیے کردار ادا کرنے کو تیار رہتا ہے، لیکن کسی بھی ممکنہ مذاکرات کا انحصار متعلقہ فریقین کی رضامندی پر ہوگا۔ ایران کو مذاکرات پرآمادہ کرنے کیلیے بیک ڈور سفارتی کوششیں جاری ہیں  ترجمان  دفتر خارجہ

اسلام آباد (خصوصی  رپورٹر )

پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے خواہاں ہے اور ایران جنگ رکوانے کے لیے اسلام آباد آئندہ ہفتے مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے۔ ترک نیوز ایجنسی نے پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وفد ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک یا دو دن میں پاکستان پہنچ رہا ہے۔

الجزیرہ کا کہنا ہے امکان ہے امریکی مذاکراتی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں آئے۔ اس ٹیم میں ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ ایران کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت ممکنہ طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقرقالیباف کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ایران عدم اعتماد کی وجہ سے اب تک اس کیلیے تیار نہیں ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے ایران کو مذاکرات پرآمادہ کرنے کیلیے بیک ڈور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان، ترکیے اور مصرمشترکہ رہنمائی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب سی این این سے گفتگو میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا اگر فریقین رضا مند ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کیلیے ہر وقت تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کے فروغ کیلیے کردار ادا کرنے کو تیار رہتا ہے، لیکن کسی بھی ممکنہ مذاکرات کا انحصار متعلقہ فریقین کی رضامندی پر ہوگا۔