ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ. ایران کی مرضی کے بغیر تیل کی پرانی قیمتیں واپس آئیں گی اور نہ ہی پرانا نظام۔ ابراہیم ذوالفقاری

لیڈ (  مذاکرات کا ترمپ دعویٰ مسترد ) امریکا ناکامی کو معاہدہ قرارنہ دے  ( ترجمان ایرانی فوج )

امریکا کی سفارتکاری پر کوئی بھی اعتماد نہیں کر سکتا، ایران پر امریکی حملے سفارت کاری سے غداری تھی جو دو بار دہرائی گئی۔  ایرانی وزارت خارجہ .. ایران کے خلاف کارروائی کا خیال ختم ہونا چاہیے، ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔ ترجمان

آبنائے ہرمز میں مختلف اقدامات جنگی صورتحال کے باعث نافذ کئے گئے ہیں، جو ممالک جارحیت میں شامل نہیں وہ ایران سے رابطہ کر کے اس گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں، ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرتا رہے گا۔ اسماعیل بقائی کا بھارتی میڈیا کو انٹرویو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران ہر قیمت پر معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہم ایران میں بہتر افراد سے بات کر رہے ہیں اور وہ ڈیل چاہتے ہیں، نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیووٹکوف اور مارکوروبیو متحرک ہیں۔

امریکا اپنی ناکامی کو معاہدہ نہ کہے، ترجمان ایرانی فوج کا ٹرمپ کے مذاکرات کا دعویٰ مسترد

تہران: (ما نیٹرنگ ڈیسک  ) ترجمان ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کے دعؤوں کو مسترد کرتے ہوئے امریکا کو واضح پیغام دے دیا، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کی سفارتکاری پر کوئی بھی اعتماد نہیں کر سکتا، ایران پر امریکی حملے سفارت کاری سے غداری تھی جو دو بار دہرائی گئی۔ اپنے بیان میں ترجمان پاسداران انقلاب لیفٹیننٹ کرنل اابراہیم ذوالفقاری کا کہنا تھا کہ کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں، ٹرمپ اپنی ناکامی کو معاہدہ نہ کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مرضی کے بغیر تیل کی پرانی قیمتیں واپس آئیں گی اور نہ ہی پرانا نظام۔ ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی کا خیال ختم ہونا چاہیے، ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔ ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ ’ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے، نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے متضاد دعوے گردش کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کی سفارتکاری پر کوئی بھی اعتماد نہیں کر سکتا، جس طرح یہ جنگ شروع کی گئی اب کون مذاکرات کے دعوؤں کو قابلِ اعتبار سمجھ سکتا ہے۔

بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں اسماعیل بقائی آبنائے ہرمز میں مختلف اقدامات جنگی صورتحال کے باعث نافذ کئے گئے ہیں، جو ممالک جارحیت میں شامل نہیں وہ ایران سے رابطہ کر کے اس گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں، ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرتا رہے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضا مند ہے، ایران میں نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اس نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا۔

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران ہر قیمت پر معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہم ایران میں بہتر افراد سے بات کر رہے ہیں اور وہ ڈیل چاہتے ہیں، نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیووٹکوف اور مارکوروبیو متحرک ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جنگی صلاحیت مکمل طور پر ختم کر دی گئی، ایران کی نئی قیادت معاہدہ کرنے جارہی ہے، ہم اسے رجیم چینج کہہ سکتے ہیں، ایران میں ہم کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہے، ایران رضا مند ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔