
واشنگٹن: ( ویب نیوز )
امریکی فوج کے ہزاروں اہلکار مشرقِ وسطیٰ پہنچنا شروع ہو گئے، دو امریکی حکام نے گزشتہ روز اس حوالے سے بتایا۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں کئے جارہے ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے آئندہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے 18 مارچ کو رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید ہزاروں امریکی فوجی تعینات کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے ایران کے اندر فوجی کارروائی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کے یہ اہلکار ریاست نارتھ کیرولائنا کے فورٹ بریگ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی آمد کے ساتھ ہی خطے میں پہلے سے موجود ہزاروں امریکی بحریہ، میرینز اور اسپیشل آپریشنز فورسز کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر تقریباً 2,500 میرینز بھی مشرقِ وسطیٰ پہنچے تھے۔
حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان فوجیوں کو کس مقام پر تعینات کیا جا رہا ہے، اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم یہ اقدام متوقع تھا۔
مزید آنے والے فوجیوں میں 82 ویں ایئربورن ڈویژن کا ہیڈکوارٹر، لاجسٹک یونٹس اور دیگر معاون دستے شامل ہیں، جبکہ ایک بریگیڈ کمبیٹ ٹیم بھی اس تعیناتی کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق، تاحال ایران میں فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، تاہم یہ تعیناتی خطے میں ممکنہ مستقبل کی کارروائیوں کے لیے تیاری کا حصہ ہے۔
اٹلی کا امریکی طیاروں کو ایئربیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی طیارے ایران پر بمباری کے بعد سسلی ایئربیس پر لینڈنگ چاہتے تھے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔
رپورٹس کے مطابق اٹلی نے مشرق وسطیٰ مشنز کیلئے امریکی جنگی طیاروں کو لینڈنگ کی اجازت نہ دی، مشرق وسطیٰ آپریشنزکیلئے امریکی طیاروں کو سسلی بیس کے استعمال سے روک دیا گیا۔
واضح رہے کہ اسپین نے بھی ایران پر حملے کرنے والے امریکی جنگی طیاروں کیلئے اپنی فضائی حدود بند کردی ہے۔
اسپین کے وزیردفاع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایران کیخلاف اپنے اڈے، فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دینگے۔
اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم نے ایران کے معاملے پر سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ ہم اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی جنگ کا میدان بنیں گے۔
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ ملکوں کو سیکھنا پڑے گا کہ اپنی خاطر لڑائی کیسے لڑی جاتی ہے، امریکہ اب آپ کی مدد کو نہیں آئے گا، بالکل ویسے ہی جیسے آپ ہمارے لیے نہیں آئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ برطانیہ جیسے ممالک جو آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے جیٹ فیول حاصل نہیں کر پا رہے، انہیں چاہیے کہ خود میں ہمت پیدا کریں، آبنائے ہرمز جائیں اور بس تیل لے آئیں اگر نہیں تو امریکہ سے تیل خرید لیں کیونکہ ہمارے پاس بہت زیادہ ہے۔
ٹروتھ سوشل کی ایک اور پوسٹ میں امریکی صدر نے فرانس کے خلاف بھی اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرانس نے اسرائیل کے لیے عسکری سامان لے جانے والے طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی۔
ٹرمپ نے ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت میں کردار ادا نہ کرنے پر بھی فرانس سے شکوہ کیا اور لکھا کہ فرانس بہت غیر مدد گار رہا، امریکہ یہ بات یاد رکھے گا۔
امریکی صدر کی پوسٹ میں مزید کہا گیا ایران بنیادی طور پر تباہ ہو چکا ہے، یہ مشکل کام اب ختم ہو گیا ہے، پوسٹ کا اختتام انہوں نے کہا کہ ’جا کر اپنا تیل خود لے آئیں!‘۔





