پاکستان ایران وزرا خاجہ کے درمیان بات چیت میں خطے کی تازہ پیش رفت، جنگ بندی اور امریکا-ایران تناظر میں اسلام آباد کی سفارتی کاوشوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ جنگ بندی کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل کوششوں کا حصہ ہے ۔
عباس عراقچی دوطرفہ مشاورت اور خطے کی صورتحال پر سیاسی رہنماؤں سے تبادلہ خیال کریں گے، ایران پر امریکا اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی تازہ صورتحال پر بھی گفتگو کریں گے۔ امریکہ کی لاجسٹک اور سکیورٹی ٹیم بھی مذاکراتی عمل کے لئے اسلام آباد میں پہلے سے موجود ہے،
حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی مختصر ٹیم کے ساتھ آج رات اسلام آباد میں آمد متوقع ہے، پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم بات چیت اور گفتگو کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد امن مذاکرات کا دوسرے راؤنڈ کا امکان ہے۔

ا سلام آباد: (ما نیٹرنگ ڈیسک )
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں علاقائی صورتحال، جنگ بندی اور سفارتی کوششوں پر گفتگو کی گئی۔
اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ دیرپا امن اور استحکام کے لیے مسلسل مکالمہ اور سفارتی روابط انتہائی اہم ہیں، تاکہ تمام حل طلب امور کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے میں پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت مختلف ممالک سے رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔
دوسری طرف ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت اور کارروائیوں کے باوجود ایران کے ریاستی ادارے اتحاد، مقصد اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میدانِ جنگ اور سفارت کاری دونوں ایک ہی جنگ کے دو مربوط محاذ ہیں اور ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔ عراقچی کے مطابق ایران کے عوام پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور قومی اتحاد میں کسی قسم کی دراڑ نہیں پائی جاتی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کےاندر سخت گیر اور نام نہاد اعتدال پسندوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی حکومت بدحالی اور انتشار کا شکار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ہمیشہ قائم رہنے والا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترجیحی امور پر مؤثر اور مسلسل سفارتی رابطوں پر زور دیا۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق انہوں نے علاقائی چیلنجز کے حل کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر تاکید کی، دفترِ خارجہ میں پالیسی سطح پر متحرک حکمتِ عملی کی ہدایت کی۔

ایرانی وزیر خارجہ دورہ اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرینگے، عباس عراقچی اسلام آباد کے بعد مسقط اور ماسکو بھی جائیں گے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے اپنے غیر ملکی دوروں کا آغاز آج کریں گے۔
خبرایجنسی کے مطابق عباس عراقچی دوطرفہ مشاورت اور خطے کی صورتحال پر سیاسی رہنماؤں سے تبادلہ خیال کریں گے، ایران پر امریکا اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی تازہ صورتحال پر بھی گفتگو کریں گے۔
اس سے قبل حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی مختصر ٹیم کے ساتھ آج رات اسلام آباد میں آمد متوقع ہے، پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم بات چیت اور گفتگو کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد امن مذاکرات کا دوسرے راؤنڈ کا امکان ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکہ کی لاجسٹک اور سکیورٹی ٹیم بھی مذاکراتی عمل کے لئے اسلام آباد میں پہلے سے موجود ہے، ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم بات چیت اور گفتگو کا نتیجہ ہے۔

پینٹاگون میں جنرل کین ڈین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری دباؤ اور ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رکھی جائے گی جب تک اسے ضروری سمجھا جائے گا، امریکا کو توانائی کے وسائل کی کوئی کمی نہیں اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
امریکی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز وہاں سے گزر نہیں سکتا، انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ بحری قزاقوں کی طرح مختلف جہازوں پر فائرنگ کر رہا ہے۔
پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکی فوج نے متعدد بحری جہازوں کو قبضے میں لیا ہے اور مزید کارروائیاں بھی جاری رہیں گی، انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور کشتیوں کو تباہ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپ اور ایشیا نے دہائیوں تک امریکی سیکیورٹی سے فائدہ اٹھایا، تاہم اب مفت فائدہ اٹھانے کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اتحادیوں کو اپنی ذمہ داریاں خود بھی نبھانا ہوں گی۔
امریکی وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ امریکا کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے، اور ایران کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ ایک “اچھی ڈیل” قبول کر لے۔
اس موقع پر امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کا کہنا ہے کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ اور گلوبل شپنگ پر ٹیکس عائد کرکے تنازعہ کو بڑھانا چاہتا ہے، دو ایسے جہاز قبضے میں لیے گئے جو ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے تھے۔





