ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہاز نکالنے کا اعلان، رکاوٹ پر سخت رد عمل کی دھمکی،آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو نشانہ بنایا جائے گا، ’خصوصاً امریکی فوج کو۔ ایرانی فوجی کمان
لیڈ (آبنائے ہرمز) امریکی جنگی جہاز پر حملہ،( پیچھے ہٹنے پر مجبور )
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں سخت وارننگ دے کر امریکی جنگی جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جنگی جہاز پر دو میزائل داغے گئے ہیں، امریکی جہاز نے وارننگ کو نظر انداز کیا، واقعہ جزیرہ جاسک کے قریب پیش آیا۔
پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت کے لیے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زائد زمینی و بحری طیارے، مختلف شعبوں میں استعمال ہونے والے بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز اور 15 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ امریکی افواج چار مئی سے اس منصوبے کی معاونت کا آغاز کریں گی.
علاوہ ازیں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نئے بحری انتظام میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے الزام تراشی پر مبنی بیانیے کو مسترد کرتے ہیں،

تہران (ما نیٹرنگ ڈیسک ) ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں سخت وارننگ دے کر امریکی جنگی جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جنگی جہاز پر دو میزائل داغے گئے ہیں، امریکی جہاز نے وارننگ کو نظر انداز کیا، واقعہ جزیرہ جاسک کے قریب پیش آیا۔
اس سے پہلے ایرانی فوج نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکی افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہوئیں تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔
ایرانی فوج کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ طور پر آمدورفت سے متعلق ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے مرکزی فوجی کمان کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی کسی بھی غیر ملکی مسلح فورس کو نشانہ بنایا جائے گا، ’خصوصاً امریکی فوج کو۔
ایرانی فوج کے میجر جنرل علی نے کہا ہے کہ ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے اور اس سے محفوظ آمدورفت کا عمل ہر صورت ایران کے ساتھ ہم آہنگی میں ہونا چاہئے۔
یہ بیان ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے نشر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت کے لیے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زائد زمینی و بحری طیارے، مختلف شعبوں میں استعمال ہونے والے بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز اور 15 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج چار مئی سے اس منصوبے کی معاونت کا آغاز کریں گی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازرانی کی آمدورفت کو آزادنہ طور پر بحال کرنا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق دنیا بھر کی سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اور ایندھن و کھاد کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔
سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ہماری جانب سے اس دفاعی مشن کی حمایت علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے جب کہ ہم بحری ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔
علاوہ ازیں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نئے بحری انتظام میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے الزام تراشی پر مبنی بیانیے کو مسترد کرتے ہیں، آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کسی بھی صورت ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر حقیقی پوسٹس کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا، یہ محض بیان بازی کی جگہ نہیں ہے۔

واشنگٹن ( ما نیٹرنگ ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت آج سے بحال کرنے کا اعلان کردیا، جہازوں کی نقل و حرکت امریکی وقت کے مطابق پیر کی صبح سے شروع ہوگی۔
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دنیا بھر کے متعدد ممالک، جو مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کا حصہ نہیں، انہوں نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ان کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے، یہ ممالک اس تنازع سے کسی بھی طرح وابستہ نہیں بلکہ محض غیر جانبدار اور متاثرہ فریق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کے مفاد میں ان ممالک کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ان کے جہازوں کو محفوظ طریقے سے ان محدود آبی گزرگاہوں سے نکالا جائے گا تاکہ وہ اپنی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ ممالک کو آگاہ کریں کہ امریکہ ان کے جہازوں اور عملے کو بحفاظت نکالنے کیلئے بھرپور کوشش کرے گا، زیادہ تر ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک علاقہ بحری سفر کیلئے محفوظ نہیں ہو جاتا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ یہ عمل پروجیکٹ فریڈم کے نام سے مشرق وسطیٰ کے وقت کے مطابق آج صبح سے شروع کیا جائے گا، مجھے علم ہے کہ میرے نمائندے ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات کر رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر تمام فریقین کیلئے مثبت نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت کا مقصد صرف ان افراد، کمپنیوں اور ممالک کو سہولت فراہم کرنا ہے جو اس تنازع میں کسی بھی طرح قصوروار نہیں بلکہ حالات کا شکار ہیں۔
انہوں نے اسے ایک انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک کیلئے یہ خیر سگالی کا پیغام ہو سکتا ہے، کئی جہازوں پر خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی قلت پیدا ہو رہی ہے جو عملے کی صحت اور صفائی کیلئے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اس انسانی ہمدردی کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کیلئے نیوی گیشن کی آزادی کو بحال کرنے کیلئے آج سے امدادی منصوبہ شروع کریں گی۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی طرف سے ہدایت کے مطابق مشن آزادانہ نقل و حمل کے خواہشمند تجارتی جہازوں کی مدد کرے گا۔
امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نئے نظام میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کیلئے امریکی بحریہ کے جہاز شامل ہونا لازمی نہیں تاہم اس گزر گاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے ممکنہ حملے روکنے کیلئے امریکی بحریہ قریب ہی ہوگی۔





