خیبرپختونخوا بجٹ.. 48 ارب روپے خسارہ، وسائل سے پورا کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کر رہا ہے، تاہم یہ خسارہ قرض لے کر پورا نہیں کیا جائے گا بلکہ اپنے وسائل سے پورا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں وفاقی حکومت کیلئے کوئی گرانٹ تجویز نہیں کی گئی، جبکہ وفاق سے اضافی فنڈز کے معاملے پر بھی صوبائی حکومت اپنا مؤقف واضح کر چکی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے تمام 92 اراکین اسمبلی نے اتفاقِ رائے سے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے بجٹ تقریر کے دوران شدید شور شرابا کیا اور ’’بجٹ نامنظور‘‘ کے نعرے لگائے۔ خواتین اپوزیشن اراکین ایک مرتبہ پھر سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئیں اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔
حکومتی اراکین کی جانب سے بھی جوابی نعرے بازی کی گئی، جس کے باعث ایوان میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور بجٹ تقریر عارضی طور پر روکنا پڑی۔
احتجاج کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپوزیشن بنچوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’حوصلہ رکھیں‘‘، جبکہ خواتین اراکین کے احتجاج پر انہوں نے ازراہِ مذاق کہا کہ ’’ان کو پانی پلائیں‘‘۔
اسمبلی اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید نعرے بازی اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے تیسری بار مسلسل تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے، مزمل اسلم نے بہترین انداز میں فنانس کو چلایا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ کی منظوری دے دی۔
پشاور: (بیورو چیف ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی۔
وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں کابینہ نے آئندہ مالی سال (27۔2026) کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔
دستاویز کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کے 2 ہزار 765 منصوبوں کے لیے 519 ارب روپے مختص کردیئے گئے، جن میں بندوبستی اضلاع کے 2070، ضم اضلاع 318 اور اے آئی پی کے 377 منصوبے شامل ہیں۔
بجٹ دستاویز کے مطابق کل منصوبوں میں 15 سو 64 پرانے اور 12 سو 1 نئے منصوبے شامل ہیں۔
سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 44 فیصد فنڈز انفراسٹرکچر، 19 فیصد سوشل، اور 13 فیصد فنڈز گورننس کے شعبے پر خرچ کیے جائیں گے، اسی طرح پیداواری شعبے کے لیے 9 فیصد جبکہ گرین سیکٹر کے لیے 5 فیصد فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر 71 فیصد فنڈز صوبائی خزانے اور 29 فیصد فنڈز غیر ملکی اداروں کا خرچ ہوگا، جبکہ غیر ملکی امداد پر صوبے میں 56 منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 71 فیصد فنڈز جاری منصوبوں جبکہ 29 فیصد فنڈز نئے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، دستاویز کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 24 ارب روپے کا تھرو فارورڈ بھی شامل ہے۔





