قومی اسمبلی نے  بجٹ منظوری کے دوسرے مرحلے میں  وزارتوں اور  ڈویژنوں کےمطالبات زر کی کثرت رائے سےمنظوری دیدی۔ سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مطالبات زر پیش کیے۔

 بجٹ  27 – 2026) وزارتوں اور ڈویژنوں کے لئے 40 کھرب 48 ارب منظور

ایٹمی توانائی کے لئے 22 ارب، نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لئے 14 کروڑ، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لئے 2 ارب 35 کروڑ، شعبہ مواصلات کے لئے 35 کروڑکے مطالبا ت زر منظور

وزارت قومی صحت کے 53 ارب 28 کروڑ سے زائد کے دو، وزارت پارلیمانی امور کا ایک ارب 20 کروڑ سے زائد کا ایک اور وزارت منصوبہ بندی ڈویژن کے 37 ارب 21 کروڑ سے زائد کے دو مطالبات زر منظور کیے گئے۔

اسلام آباد: (خصوصی رپورٹر )

بجٹ منظوری کے دوسرے مرحلے میں قومی اسمبلی نے وزارتوں کو ڈویژنوں کےمطالبات زر کی کثرت رائے سےمنظوری دیدی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مطالبات زر پیش کیے۔

ایٹمی توانائی کے لئے 22 ارب، نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لئے 14 کروڑ، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لئے 2 ارب 35 کروڑ، شعبہ مواصلات کے لئے 35 کروڑ، شعبہ مواصلات کے لئے 36 ارب سے زائد کا ایک اور مطالبہ زر منظور کیا گیا۔

پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے لئے 25 ارب، شعبہ دفاع کے لئے 17 ارب، ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کے تین ارب 89 کروڑ، خارجہ امور ڈویژن کے 68 ارب 17 کروڑ، ہاؤسنگ وہ تعمیرات ڈویژن کے 22 ارب 31 کروڑ، انسانی حقوق ڈویژن کے دو ارب 33 کروڑ سے زائد کے چار مطالبات زر منظور کیے گئے۔

کامرس ڈویژن کے 27 ارب 99 کروڑ سے زائد کے دو، مواصلات ڈویژن کے 1 کھرب 25 ارب سے زائد کے پانچ، دفاع اور دفاع ڈویژن کے 30 کھرب 67 ارب 23 کروڑ سے زائد کے پانچ، دفاعی پیداوار ڈویژن کے 2 ارب 11 کروڑ سے زائد کے دو مطالبات زر منظور ہوئے۔

اکنامک افیئر ڈویژن کے 15 ارب ایک کروڑ سے زائد کے دو، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے 1 کھرب 21 ارب 26 کروڑ سے زائد کے 9 ، اطلاعات ونشریات ڈویژن کے 27 ارب 57 کروڑ روپے سے زائد کے تین، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 42 ارب 7 کروڑ روپے سے زائد کے دو مطالبات زر منظور کر لیے گئے۔

داخلہ ڈویژن اور ذیلی اداروں کے45 ارب 4 کروڑ سے زائد کے دو، بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے پانچ ارب دو کروڑ سے زائد کے دو، امور کشمیر و گلگت بلتستان ڈویژن کے 3 ارب 18 کروڑ سے زائد کے دو، قانون و انصاف ڈویژن کے 24 ارب 91 کروڑ سے زائد کے 7 مطالبات زر کی منظوری ہوئی۔

میری ٹائم افیئر کے 4 ارب 12 کروڑ سے زائد کے دو، قومی اسمبلی کا 9 ارب 3 کروڑ سے زائد کا ایک، سینٹ آف پاکستان کا 3 ارب 21 کروڑ سے زائد کا ایک، وزارت قومی صحت کے 53 ارب 28 کروڑ سے زائد کے دو، وزارت پارلیمانی امور کا ایک ارب 20 کروڑ سے زائد کا ایک اور وزارت منصوبہ بندی ڈویژن کے 37 ارب 21 کروڑ سے زائد کے دو مطالبات زر منظور کیے گئے۔

قومی اسمبلی نے نجکاری ڈویژن کے 1 ارب 74 کروڑ سے زائد کے دو مطالبات زر کی بھی منظوری دی۔