لاہور: پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں چند روز کے دوران تیزی سے اضافہ ہونے لگا، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 8 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 7638 تک پہنچ چکی ہے۔

 نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کی بات کی جائے تو 8 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 6416 لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، اب تک ملک بھر میں 92 ہزار 548 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

ملک بھر میں مریضوں کی بات کی جائے تو اس وقت مریضوں کی تعداد 7638 تک پہنچ چکی ہے، اس دوران 1832 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، جبکہ 5806 مریض تاحال زیر علاج ہیں۔

چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مریضوں کی بات جائے تو اس وقت پنجاب میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں پر 3410 مریض ہیں۔

دوسرے نمبر پر صوبہ سندھ ہے جہاں پر مریضوں کی تعداد 2355 ہے، بلوچستان میں 335 ، خیبر پختونخوا میں 1077 ، اسلام آباد میں 163، آزاد کشمیر میں 48اور گلگت بلتستان میں 250 مریض ہیں۔

ملک بھر میں جاں بحق افراد کی بات کی جائے تو خیبرپختونخوا میں ہلاکتیں سب سے زیادہ ہیں، جہاں پر 50 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، سندھ میں 47 افراد خالق حقیقی سے جا ملے، پنجاب میں 37 افراد کورونا وائرس سے لڑتے لڑتے جانبرنہ ہو سکے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ایک، بلوچستان میں پانچ، گلگت بلتستان میں تین افراد دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آزاد کشمیر میں 9 ، بلوچستان میں 142، گلگت بلتستان 192، اسلام آباد میں 20، خیبر پختونخوا میں 216، پنجاب میں 672، سندھ میں 581 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹز کے مطابق کورونا وائرس کے سب سے زیادہ 21.13 فیصد کیسز لاہور میں ہیں، کراچی میں 15.13 فیصد اور راولپنڈی میں 4.11 فیصد مریض ہیں۔

سکیورٹی کی بات کی جائے تو چاروں صوبائی دارالحکومت لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پاک فوج، پولیس اہلکار سمیت دیگر اہلکار اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔