بھارتی قابض فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ ، سی آر پی ایف کا ایک اہلکار ہلاک

جنوبی کشمیر میں بھارتی قابض فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ ، سی آر پی ایف کا ایک اہلکار ہلاک، ضلع میں انٹرنیٹ سروس معطل
علاقے میں احتجاجی مظاہرے،شوپیان پلوامہ روڑ پر ٹریفک کئی گھنٹوں تک معطل
شمالی کشمیر میں لولاب کے جنگلات کا فوج کا محاصرہ ،تلاشی آپریشن کے دوران مجاہدین فوج کا محاصرہ توڑ کر بچ نکلنے میں کامیاب
سرینگر کے مضافاتی علاقہ ہارون کے جنگلات میں تلاشی کارروائی، قابض فورسز  کا ایک کمین گاہ سے بڑے پیمانے پر ہتھیار اور گولہ بارود  برآمدکرنیکا دعوی
وادی کے کئی علاقوں میں فوجی آپریشنز، کئی کشمیری نوجوان گرفتار

سرینگر (کے پی آئی ) جنوبی کشمیر میں بھارتی قابض فوج اور مجاہدین کے درمیان ایک جھڑپ میں سی آر پی ایف کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیااس دوران ضلع میں انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی اور علاقے میں احتجاجی مظاہرے کے باعث شوپیان پلوامہ روڑ پر کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی آمد و رفت بند رہی۔شمالی کشمیر میں لولاب کے جنگلات کو فوج نے محاصرہ کرے تلاشی آپریشن شروع کردیا ہے، سرینگر کے مضافاتی علاقہ ہارون کے جنگلات میں تلاشی کارروائی کے دوران قابض فورسز نے ایک کمین گاہ سے بڑے پیمانے پر ہتھیار اور گولہ بارود کے علاوہ ضروریات زندگی کی مختلف چیزیں برآمدکرنیکا دعوی کیا ہے ،کے پی آئی کے مطابق  پولیس نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ طور پر اطلاع ملنے کے بعدپلوامہ ضلع ہیڈکوارٹر سے 3کلو میٹر دور55آر آر،سی آر پی ایف 182اور 183بٹالین اور ایس او جی پلوامہ نے سوموار کی رات بنڈ زو نامی گائوںکا محاصرے کیا اورشوپیان پلوامہ روڑ پر واقع گائوں کو گھیرے میں لیا۔پولیس نے بتایا کہ منگل کی صبح سویرے گائوں میں گھر گھر تلاشیوں کا آغاز کیا گیا،جس دوران کسی مکان میں موجود مجاہدین نے باہر نکل کر محاصرہ توڑنے کی کوشش کی اور ایک جگہ پہنچ کر فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتینجے میں طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس کے دوران دونوں مجاہد شہید ہوئے جبکہ ایک فوجی اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا۔مذکورہ اہلکار کی شناخت 182بٹالین سی آر پی اہلکار کے کالی سنیل کے طور پر ہوئی ہے۔۔بعد میں قابض فوج نے دونوں مجاہدین کی لاشیں اپنی تحویل میں لیکر محاصرہ ختم کیا۔ادھرمقامی لوگوں نے بتایا گائوں میں فوج اور فورسز دوران شب ہی داخل ہوئی تھی۔غیر سرکاری ذرائع نے شہید کئے گئے مجاہدین کی شناخت اویس احمد بٹ ولد مرحوم محمد یوسف بٹ ساکن مول چتراگام شوپیان اور اعجاز احمد احمد گنائی ولد بشیر احمد گنائی ساکن جم نگری شوپیان کے طور کی ہے ۔  دونوں کو سرکاری ضوابط کے تحت شمالی کشمیر کے مخصوص قبرستانوں میں دفنایا گیا،علاوہ ازیں علاقے میں  انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی اور شوپیان میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے  کئے گئے جس سے شوپیان پلوامہ روڑ پر کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی آمد و رفت بند رہی،دریں اثناء لولاب وادی کے ڈورسہ جنگلات میں فوج کی تلاشی کارروائی کے دوروان مجاہدین نے فوجی اہلکارو ں پر فائرنگ کی ۔ 28آر آر اور سی آر پی ایف نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر   لولاب وادی کے ڈوروسہ جنگلا ت کا محاصرہ کیا تاکہ وہا ں چھپے بیٹھے مجاہدین کو تلاش کیا جائے جنگجو ئوںنے فوجی اہلکارو ں پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان مختصر فائرنگ کا  تبادلہ ہوا اور مجاہدین فرار ہوئے۔علاوہ ازیں سرینگر کے مضافاتی علاقہ ہارون کے جنگلات میں تلاشی کارروائی کے دوران فورسز نے ایک کمین گاہ سے بڑے پیمانے پر ہتھیار اور گولہ بارود کے علاوہ ضروریات زندگی کی مختلف چیزیں برآمدکرنیکا دعوی کیا ہے۔ ہارون جنگلات میں  عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع کے بعد فورسز وپولیس نے عسکریت پسند مخالف آپریشن شروع کرکے وسیع جنگلاتی علاقے میں تلاشیاں لیں جس کے دوران عسکریت پسندوں کی ایک کمین گاہ کا سراغ مل گیا اور اس سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود جس میں دستی گرینیڈوں سمیت یو بی جی ایل، جی پی ایس، اے کے میگزین شامل ہیں، برآمد کئے گئے۔ دفاعی ترجمان راجیش کالیا نے بتایا کہ اے کے 47کا ایک میگزین،30گولیاں،ایک یو بی جی ایل اور 6گرینیڈآمد کئے گئے۔ اس کے علاوہ کمین گاہ سے کئی کمبلیں ،کھجور کے پیکٹ، بسکٹ ، نیپ کن ، پانی کا کولر،اور دیگر اشیا برآمد کی گئیں،بھارتی فوج نے وادی کے کئی علاقوں میں فوجی آپریشنز شروع کردئیے ہیں جن میں کئی افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ،شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سوپور قصبہ میں پولیس نے 4نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق چھان پورہ اٹھارہ سوپور میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر ایک تلاشی مہم کے دوران سوپور پولیس اور فوج کے52 آر آر کی مشترکہ ٹیم نے چھان پورہ اتھورا کے مختلف مقامات پر تلاشی شروع کی ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے الزام لگایا ہے کہ گرفتار شدہ نوجوان عرفان احمد میر، عرفان احمد جان، قیصر رحمان خان، اور سہیل احمد گنائی لشکرطیبہ کے معاونین ہیں۔چاروں اتھورا کے رہنے والے ہیں ۔پولیس کے مطابق یہ چاروں افراد پولیس چوکی پوتکھاہ سوپور میں گرینیڈ حملے میں ملوث تھے۔اس سلسلے میں سوپور پولیس نے ان کے خلاف کیس درج کر کے تحقیقات شروع کردی ہے۔ ترال علاقہ میں سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے۔عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد بدھ کو علی الصبح فوج، سی آر پی اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے ستورہ ترال اور لالگام اونتی پورہ علاقوں کو محاصرے میں لیا اور تلاشی مہم شروع کی۔ ان علاقوں میں تمام داخلی اور خارجی راستوں پر پہرے بٹھا دئیے گئے ہیں اور گھر گھر تلاشی کارروائی جاری ہے۔جبکہ کسی بھی فرد کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سے ترال کے مختلف دیہات میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے سرچ آپریشن عمل میں لائے گیے ہیں۔جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے علاقے پمبئی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے کو محاصرے میں لیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ علاقے میں کئی عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں جس کے فورا بعد علاقے کو اپنی تحویل میں لیا گیا اور سارے علاقے کو سیل کردیا گیا۔
#/S

Editor

Next Post

پاکستان.. کورونا کے باعث مزید 60افراد جا ں بحق، مجموعی تعداد3ہزار755ہوگئی

بدھ جون 24 , 2020
ملک بھر میں کورونا کے باعث مزید 60افراد جا ں بحق، مجموعی تعداد3ہزار755ہوگئی گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 3892کیس رپورٹ ہوئے، تعداد1لاکھ 88ہزار 926ہوگئی  ملک بھر میں کوروناوائرس کے تشویشناک مریضوں کی تعداد3337ہے، 77754مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 23380کوروناوائرس کے ٹیسٹ کئے […]