پیٹرول کی قلت … عدالت کا چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل کو 1لاکھ روپے جرمانہ

لاہور ہائی کورٹ کاپیٹرول کی قلت پر اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا حکم

  اگر سپیکر کمیٹی نہیں بناتے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا،پھر رکاوٹ ڈالنے والا کوئی نہیں بچے گا،چیف جسٹس قاسم علی خان

ہمیں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو وارنٹ گرفتاری جاری کر کے طلب کرنا پڑے گا

حکومت بتائے ایسے بحران کے خاتمے کے لئے کیا اقدامات ہو رہے ہیں ؟

وزیراعظم بتائیں اوگرا کے خلاف کیا اقدامات کیے گئے ؟ پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر آپ نے کمپنیوں کو کتنا فائدہ پہنچایا ،  اٹارنی جنرل سے استفسار

آپ نے پیٹرول کی قیمتوں کا تعین کرنے کے لئے فارمولا تبدیل کیا جو بادی النظر میں بدنیتی پر مبنی لگتا ہے، چیئر پرسن اوگرا سے مکالمہ

 عدالت کا چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل کو 1لاکھ روپے جرمانہ ، بار ایسوسی ایشن  ہسپتا ل میں جمع کرانے کا حکم

پیٹرول کی قلت دور ہو چکی ہے، میں اپنی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں،درخواست گزار

 آپ کی درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد کرتا ہوں ، چیف جسٹس قاسم علی خان ،کیس کی مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی

لاہور(صباح نیوز)لاہور ہائی کورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی کو پیٹرول کی قلت پر حکومت اور اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا ۔ منگل کو  لاہور ہائی کورٹ میں پیٹرول بحران کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، اٹارنی جنرل، چیئر پرسن اوگرا عظمیٰ عادل، سیکرٹری پیٹرولیم، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ جسٹس قاسم علی خان نے استفسار کیا کہ حکومت بتائے ایسے بحران کے خاتمے کے لئے کیا اقدامات ہو رہے ہیں ؟ وزیراعظم بتائیں اوگرا کے خلاف کیا اقدامات کیے گئے ؟۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے دوران سماعت اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر آپ نے کمپنیوں کو کتنا فائدہ پہنچایا جبکہ چیئر پرسن اوگرا سے مکالمہ میں کہا کہ آپ نے پیٹرول کی قیمتوں کا تعین کرنے کے لئے فارمولا تبدیل کیا جو بادی النظر میں بدنیتی پر مبنی لگتا ہے۔اس موقع پر عدالت نے چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل کو ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے اسے بار ایسوسی ایشن  ہسپتا ل میں جمع کروانے کا حکم دیا۔اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی کو پیٹرول کی قلت پر حکومت اور اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر سپیکر کمیٹی نہیں بناتے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا،پھر رکاوٹ ڈالنے والا کوئی نہیں بچے گا،ہمیں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو وارنٹ گرفتاری جاری کر کے طلب کرنا پڑے گا۔دوران سماعت درخواست گزار نے عدالت میں موقف اپنایا کہ پیٹرول کی قلت دور ہو چکی ہے، میں اپنی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ کی درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد کرتا ہوں،بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی کردی۔mk/nsr

#/S

Editor

Next Post

e-Paper – Daily Wifaq – Rawalpindi – 01-07-2020

بدھ جولائی 1 , 2020