ترسیلات میں اضافہ کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جے ایس بینک کی کاوشوں کا اعتراف

لاہور۔ (ویب ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے قومی خوشحالی کیلئے پرعزم اندرون ملک ترسیلات میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر جے ایس بینک کی کاوشوں کا اعتراف کیا ہے۔ جے ایس بینک قومی خزانہ میں غیر ملکی زرمبادلہ جمع کروانے والے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔ ایس بی پی اور بینکنگ سیکٹر کیلئے ترسیلات زر ایک اعلیٰ ترجیحی شعبہ ہے جو ہر ماہ 51 فیصد سے بڑھ کر اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جون میں 2.4 بلین ڈالر ہو گیا ہے۔
سال کے دوران جے ایس بینک نے گزشتہ سال 685 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 738 ملین ڈالر کی مجموعی ترسیلات زر کے ساتھ ایک ملین سے زائد لین دین ریکارڈ کئے۔ متحدہ عرب امارات، برطانیہ، خلیجی ممالک اور امریکہ سمیت تمام نمایاں راہداریوں میں اپنی مضبوط موجودگی کے ساتھ جے ایس بینک زیادہ سے زیادہ ترقی کے لئے اپنے ایجنٹ نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہا ہے۔
بینک نے ایس بی پی گائیڈ لائنز کے مطابق قانونی چینلز کے ذریعے ترسیلات زر بھیجنے اور وصول کرنے کے لئے ڈیجیٹل چینلز پر توجہ دینے کے ساتھ ایک مارکیٹنگ مہم میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔ معاون حکومتی پالیسیوں اور مراعات میں اضافہ نے اس مہم میں تعاون فراہم کیا ہے۔
جے ایس بینک کے صدر و سی ای او باصر شمسی نے کہا کہ ہمارا مقصد لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے والی خدمات کی فراہمی کے ذریعے معیشت کی ترقی میں تعاون اور خوشحالی فراہم کرنا ہے۔ ہم اسٹیٹ بینک کی رہنمائی اور تعاون پر اس کے مشکور ہیں۔
ابتدائی رقم 200 ڈالر سے کم کر کے 100 ڈالر کرنے اور مراعات میں اضافہ کے ذریعے چھوٹی رقوم بھیجنے والوں کے لئے TT چارجز اسکیم (مفت ترسیلات بھیجنے کی اسکیم) کی ری امبرسمنٹ کی توسیع کے حوالے سے معاون حکومتی پالیسیوں کو قانونی ترسیلات میں اضافہ کی وجوہات کے طور پر پیش کیا گیا۔
پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی جانب اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم بینک کو امید ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر ویلیو ایڈڈ مالیاتی پیشکشوں اور خدمات کی فراہمی کے ذریعے کامیابی کے اس سفر کو جاری رکھے گا۔

Editor

Next Post

ایف اے ٹی ایف کے اہداف اور شرائط: کمپنیز ایکٹ 2017 میں ترامیم کا فیصلہ

بدھ جولائی 22 , 2020
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کے حصول میں اہم پیشرفت کی ہے۔ کمپنیز ایکٹ 2017 میں ضروری ترامیم کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، ترمیم سے شیئرز کے ذریعے مشکوک ترسیلات کا مکمل خاتمہ ہوسکے گا۔ کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 122 کے ساتھ […]