کراچی میں بار ش سے150فیڈرز بند، بجلی کی فراہمی معطل

نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے کام میں مشکلات کا سامنا، کورنگی کاز وے پر ٹریفک جام

مسرور بیس میں 35، فیصل بیس34، نارتھ کراچی33.6، لانڈھی میں 27.3ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی

کراچی(ویب ڈیسک )کراچی کے مختلف علاقوں میں پھر بادل برسنے کے بعد کے الیکٹرک نے ڈیڑھ سو فیڈرز بند کر دیئے ، متعدد علاقے تاحال بجلی سے محروم ہیں۔   تفصیلات کے مطابق کراچی میں بیشتر علاقوں میں بارش سے 150فیڈرز بند کرنے کے بعدبجلی کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی ، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے کام میں مشکلات کا سامنا  رہا ۔کراچی کے کچھ علاقوں کی احتیاطی طور پر بجلی بند کی گئی ، گلشن اقبال، بن قاسم اور بلدیہ میں بجلی کی بحالی کا عمل جاری ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں بارش کا سلسلہ کمزور ہونا شروع ہو گیا تاہم شہر قائد میں بادل برستے رہے۔مسرور بیس میں 35، فیصل بیس34، نارتھ کراچی33.6، لانڈھی27.3، صدر 25اولڈ ائیرپورٹ23.4، جناح ٹرمینل، یونیورسٹی روڈ اورجوہر ٹائون میں 19.8،کیماڑی17.4اورناظم آباد میں 15ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں سب سے زیادہ بارش سرجانی میں46.9ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ سعدی ٹائون میں43.6 اورگلشن حدید میں 36ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔کارساز، بہادرآباد، محمدعلی سوسائٹی اور سٹیڈیم روڈ پر بارش ہوئی۔ شاہراہ فیصل، ڈالمیا روڈ، آئی آئی چندریگرروڈ، صدر، نیوسندھ سیکرٹریٹ اور گورنرہائوس کے اطراف بھی بارش ہوئی۔ہلکی پھلکی بارش سے ہی شہر کی کئی اہم شاہرائیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہائوس جانے والی سڑک اور کے ڈی اے چورنگی پر پانی جمع ہے۔کلب چوک سے فوارہ، ریجنٹ پلازہ سے عائشہ باوانی اور گارڈن چوک میں بھی پانی کھڑا ہے۔ کراچی میں  بارش کی بوندیں پڑتے  ہی شہریوں  کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔بارش سے ملیر ندی بپھر گئی ہے جس سے پانی کورنگی کاز وے پر آگیا جس کے باعث ٹریفک جام ہوگیا اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بارش کے بعد نکاسی آب کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا ہے۔ کے ڈی اے چورنگی کے اطراف میں پانی کی نکاسی آب کا کوئی انتظام اب تک نہیں کیا جا سکا۔

 

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔