کورونا کی شدت میں کمی کے بعد ماسک اور سینیٹائزر کی طلب میں بھی نمایاں کمی

کراچی (ویب ڈیسک)

کورونا کی وبا کی شدت کم ہونے کے بعد حفاظتی ماسک اور سینیٹائزر کی طلب میں بھی نمایاں کمی آگئی ہے۔

کراچی کی ہول سیل میڈیسن مارکیٹ میں جہاں ماسک ڈھونڈے نہیں ملتے تھے اب ٹھیلوں اور پتھاروں پر فروخت ہورہے ہیں۔ کورونا کی وبا کے آغاز پر حفاظتی ماسک اور سینیٹائزر کا اسٹاک رکھنے والوں کی خوب چاندی ہوئی اور 5 روپے والا عام ماسک 50 روپے میں فروخت کیا گیا۔

خاص قسم کے سرجیکل ماسک تو جیسے نایاب ہوگئے اور  ان کے منہ مانگے دام وصول کیے گئے۔ ماسک کی طلب دیکھتے ہوئے ٹیکسٹائل کمپنیوں نے خام مال بنانا شروع کیا تو گارمنٹ اور طبی سازوسامان بنانے والی کمپنیوں نے بھی ماسک بنانے کے لیے بھاری سرمایہ لگانا شروع کردیا۔

کچھ یہ ہی حال ہینڈ واش اور سینیٹائزر کا ہوا مارکیٹ میں سینیٹائزرزکی  درجنوں برانڈز کی بھرمار ہوگئی۔ تاہم اب کورونا کی وبا دم توڑ رہی ہے اور عوام نے احتیاط کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ دیا ہے۔ عوامی مقامات پر ماسک کا استعمال نہیں کیا جارہا اسی طرح ہینڈ سینیٹائزرز کا استعمال بھی کم ہوگیا ہے۔ طلب میں کمی کی وجہ سے تھوک سطح پر ماسک اور سینیٹائزر کی قیمت میں نمایاں کمی آگئی ہے۔

ڈینسو ہال کی میڈیسن مارکیٹ جہاں  50 عام سرجیکل ماسک کا ڈبہ 2500 میں فروخت ہوا تھا اب اسی ڈبہ کی قیمت 250 سے 350 روپے پر آگئی ہے۔ سینیٹائزر کی بوتلیں تو محض ڈسپلے آئٹم بن کر رہ گئی ہیں۔ ماسک فروخت کرنے والے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔

میڈیسن مارکیٹ ایسوسی ایشن کے عہدے داران کا کہنا ہے کہ پاکستان ماسک کی پیداوار میں خود کفیل ہوچکا ہے کورونا وبا کے آغاز پر صرف چین سے درآمدی ماسک فروخت کیے جاتے تھے تاہم وبا کی شدت بڑھتے ہی مقامی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر ماسک تیار کیے جارہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ماسک کی فراوانی ہے اور ماسک کی بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

تاجروں کاکہنا ہے کہ ماسک کی پیداوار سے مقامی طلب پوری کرنے کے بعد ایکسپورٹ کرکے کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ ادھر ماسک اور سینیٹائرز کی قیمت کم ہونے سے شہریوں میں اطمینان پایا جاتا ہے قیمتوں میں کمی سے فائدہ اٹھاکر ماسک خریدنے والے خریداروں کا کہنا ہے کہ ماسک اور سینیٹائزر کی مقامی سطح پر پیداوار خوش آئند امر ہے۔

کورونا کے دوران احتیاطی تدابیر سے عوام کو آئندہ بھی حفظان صحت کا خیال رکھنے کی تحریک ملے گی۔ ڈینسوہال سے خریداری کرنیوالے شہریوں کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا کی شدت کم ہوئی ہے یہ وبا ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ آئندہ ماہ سے اسکول کھلنے والے ہیں اور بچوں کو حفاظتی تدابیر کے تحت ماسک پہنانا ہوگا اسی طرح شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی اور ماسک کی قیمت کم کرنے سے شہریوں کے لیے اپنی حفاظت آسان ہوگی۔

Editor

Next Post

یو اے ای نے اسرائیل کو تسلیم کرکے فلسطینیوں اور مسلم امہ کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے: حافظ حسین احمد

اتوار اگست 16 , 2020
یو اے ای نے اسرائیل کو تسلیم کرکے فلسطینیوں اور مسلم امہ کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے: حافظ حسین احمد متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہودیوں کی ناجائز حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ، یو ایس اے کے احکامات پریو اے ای نے […]