وزارت خارجہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 21 قرار دادوں کے تحت دہشت گردوں پر عائد کردہ پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری اور اسلحے کی خرید و فروخت پر پابندی شامل

اسلام آباد(ویب ڈیسک)

پاکستان نے داعش، القاعدہ، طالبان سمیت دیگر تنظیموں کے 88 سے زائد دہشت گردوں پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق  وزارت خارجہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 21 قرار دادوں کے تحت دہشت گردوں پر عائد کردہ پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری اور اسلحے کی خرید و فروخت پر پابندی شامل ہے۔پابندیوں کے دو علیحدہ نوٹیفکیشن جاری کیے گئے جن میں کالعدم تنظیموں، دہشت گرد عناصر، افراد کے تمام اثاثے، کھاتے یا مالیاتی ذرائع بغیر کسی پیشگی نوٹس کے فی الفور منجمد کرنے کا حکم دیا گیا۔اعلامیے کے مطابق کوئی شخص فنڈز، معاشی وسائل، مالیاتی اثاثوں یا کسی بھی صورت میں ان عناصر کو براہ راست یا بلواسطہ عطیہ نہیں دے سکے گا۔حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بغیر کسی تاخیر کے ان افراد کے مالی اثاثے یا معاشی وسائل، ان کی ملکیت میں موجود املاک سے حاصل ہونے والی آمدن اور ہر قسم کے دیگر اثاثے اور فنڈز منجمد ہوجائیں گے۔مزید یہ کہ ان افراد کے پاکستان میں داخل ہونے اور ملک کو بطور راہداری استعمال کرنے پر بھی پابندی لگائی گئی تاہم عدالتی کارروائی یا پابندی کمیٹی کی طے کردہ نوعیت کے تحت اگر ضروری ہوا تو اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔اس کے ساتھ ان افراد کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسلحے کی فراہمی، فروخت یا منتقلی پر بھی پابندی لگادی گئی جبکہ عسکری سرگرمیوں میں معاونت، تکنیکی مشوروں اور کسی قسم کے عسکری آلات کے لیے فالتو پرزہ جات کی فراہمی بھی ممنوع قرار دے دی گئی۔نوٹیفکیشن میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی کی جاری کردہ دہشت گردوں کی نئی فہرست کی بھی منظوری دی گئی۔اقوام متحدہ کی پابندی کمیٹی نے سابق طالبان حکومت کے وزرا، گورنر اور رہنما کو بھی دہشت گردی کی مصدقہ فہرست میں شامل کیا ہے اور اس میں پاک، افغان سرحدی علاقوں میں روپوش کالعدم تحریک طالبان کے افراد بھی شامل ہیں۔نوٹیفکیشن میں حافظ محمد سعید، مولانا محمد مسعود اظہر، ملا فضل اللہ (عرف ملا ریڈیو)، ذکی الرحمن لکھوی کے علاوہ محمد یحیی مجاہد، انٹر پول کو مطلوب عبدالحکیم مراد پر بھی پابندی کی توثیق کر دی گئی۔اس کے علاوہ پابندی فہرست میں کالعدم تحریک طالبان کے نور ولی محسود، ازبکستان آزادی تحریک کے فضل رحیم، طالبان سے تعلق رکھنے والے جلال الدین حقانی، خلیل احمد حقانی، یحیی حقانی بھی شامل ہیں۔مذکورہ بالا پابندیاں جن پر عائد کی گئیں ان میں محمد سلیم حقانی، نصیر الدین حقانی، سعید محمد حقانی، سراج الدین حقانی،بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے داد ابراہیم کاشکر بھی شامل ہیں۔علاوہ ازیں کالعدم تحریک طالبان، لشکر طیبہ، جیش محمد، لشکر جھنگوی کی قیادت، تحریک طالبان پاکستان کے ذیلی گروپ طارق گیدڑ گروپ کے تمام عہدیداران بھی پابندیوں کے شکار ہیں۔نوٹیفکیشن میں حرکت المجاہدین، الرشید ٹرسٹ پاکستان، الاختر ٹرسٹ انٹرنیشنل پاکستان، جیش المہاجرین الانصار، کالعدم جماعت الاحرار، خطبہ امام البخاری تنظیم، رابطہ ٹرسٹ لاہور کے بھی تمام عہدیداران، رہنماوں پر پابندی عائد کی گئی۔وزارت خارجہ کے اعلامیے کے تحت ریوائیول آف اسلامک ہیریٹیج سوسائٹی پاکستان، ازبکستان اسلامی تحریک، داعش عراق، روس کیخلاف امارات قفقاض تنظیم اور اس کے عہدیداران اور چین کی مسلم آزادی تنظیم کے عبدالحق اوگر پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ساتھ ہی الحرمین فاونڈیشن اسلام آباد پاکستان، حرکت الجہاد اسلامی پاکستان، اسلامی جہاد گروپ پاکستان پر پابندی لگادی گئی

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔