دوسری شادی اجازت نہیں، عدل کے ساتھ مشروط ہے، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

دوسری شادی اجازت نہیں، عدل کے ساتھ مشروط ہے، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل
شریعت میں دوسری شادی سے متعلق عدل کی بات کی گئی ہے اجازت کی نہیں
بعض معاملات قانون کے ذریعے درست نہیں ہوسکتے، ثالثی کی ضرورت ہوتی ہے
حق مہر کی ادائیگی پر قانون اور شریعت دونوں راستے موجود ہیں، عائلی نظام میں تربیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے
دوسری شادی کے لیے قانون ثالثی کونسل جاکر اہلیہ سے اجازت  لینے کا مجاذ ہوگا،قبلہ ایاز

اسلام آباد(ویب ڈیسک )چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ دوسری شادی اجازت نہیں، عدل کے ساتھ مشروط ہے، حق مہر کی ادائیگی پر قانون اور شریعت دونوں راستے موجود ہیں، عائلی نظام میں تربیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شریعت میں دوسری شادی سے متعلق عدل کی بات کی گئی ہے اجازت کی نہیں۔  انہوں نے کہا کہ دوسری شادی کی اجازت  کا معاملہ بارہا اسلامی نظریاتی کونسل میں آیا ہے، 2013میں دوسری شادی سے متعلق خواتین کی طرف سے سخت ردعمل آیا۔قبلہ ایاز نے کہا کہ بعض معاملات قانون کے ذریعے درست نہیں ہوسکتے، ثالثی کی ضرورت ہوتی ہے، حق مہر کی ادائیگی پر قانون  اور شریعت دونوں راستے موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عائلی نظام میں تربیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے، دوسری شادی کے لیے قانون ثالثی کونسل جاکر اہلیہ سے اجازت لینے کا مجاذ ہوگا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو حق مہر فوری طور پر ادا کرنا ہوگا۔فیصلے میں کہا گیا کہ دوسری شادی کیلئے اجازت کا قانون معاشرے کو بہتر انداز سے چلانے کیلئے ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی سے کئی مسائل جنم لیں گے۔یاد رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی سے اجازت لینے کو غیر ضروری قرار دیا تھا۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.