پاکستان اور سعودی عرب دو جسم ایک جان ہیں،اعجاز شاہ

 ایک ماہ میں دو بھائیوں کو کھو دینے کا غم بہت بڑا ہے اللہ تعالی لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے،سعودی سفیر کی وزیرداخلہ سے تعزیت

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ سے وزارت داخلہ میں ملاقات اور تعزیت کی اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا اعادہ کیا۔وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ  نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب دو جسم ایک جان ہیں۔سعودی سفیر نے کہاکہ ایک ماہ میں دو بھائیوں کو کھو دینے کا غم بہت بڑا ہے اللہ تعالی لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔پیرکوسعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ سے ان کے بھائیوں کی وفات پر اظہار تعزیت اور ورثا کے حق میں دعا کی۔ان کا کہنا تھا کہ ایک مہینے میں دو بھائیوں کو کھو دینے کا غم بہت بڑا ہے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے سعودی سفیر کا شکریہ ادا کیا- ملاقات کے دوران باہمی امور کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا-اس موقع پر وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کرونا صورتحال اور عمرہ کے لیے پروازیں بحال کرنے کے حوالے سے دریافت کیااس کے جواب میں سعودی سفیر نے پروازیں بحال کرنے کے بارے میں کہا کہ جلد کرونا صورتحال بہتر ہوتے ہی پروازیں کھل جائیں گی- ان کا مزید کہنا تھا کہ مجموعی طور پر سعودی عرب میں کرونا کی صورتحال کافی بہتر ہے۔ باہمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ کا کہنا تھا کہ  سعودی عرب سے صرف حکومتی سطح پر نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی برادرانہ تعلقات ہیںوزیر داخلہ کی بات سے متفق ہوتے ہوئے سعودی سفیر نے کہا کہ عوامی اور حکومتی روابط اس قدر مستحکم ہیں کہ انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔اس کے جواب میں اعجاز احمد شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب دو جسم ایک جان ہیں۔سعودی سفیر نے وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ سے قیمتی وقت نکالنے پر شکریہ کا اظہار کیا اور ملاقات کا اختتام اس عہد کے ساتھ ہوا کہ آنے والے دنوں میں باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔