ایف بی آر ممبران کی تعداد 13 سے کم کرکے 8 کیا جارہا

 اصلاحات میں اختیارات چیف کمشنرز اور ایل ٹی یو کو دیں گے

چیف کمشنرز اور ایل ٹی یوز ہو اختیارات دینے کے بعد ان کا احتساب بھی ہوگا

قائمہ کمیٹی  برائے خزانہ کو ایف بی آر میں اصلاحات پر بریفنگ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

وزیراعظم کے مشیر برائے سادگی مہم و ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی ساکھ کچھ کالی بھیڑوں کی وجہ سے اچھی نہیں ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی  برائے خزانہ کو ایف بی آر میں اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ ایف بی آر ممبران کی تعداد 13 سے کم کرکے 8 کیا جارہا ہے۔انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ اصلاحات میں اختیارات چیف کمشنرز اور ایل ٹی یو کو دیں گے۔ چیف کمشنرز اور ایل ٹی یوز ہو اختیارات دینے کے بعد ان کا احتساب بھی ہوگا۔ڈاکٹر عشرت حسین نے اجلاس کو بتایا کہ 2005 میں ایف بی آر میں اصلاحات ہوئیں اس کے بعد بریک لگ گیا۔ آٹو میشن اور ڈیجٹلائزیشن سے شفافیت اور ٹیکس گزار کی مشکلات کم ہونگیں۔ محصولات کے ہدف کے حصول کے لیے عوام کو تنگ کیا جاتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے سادگی مہم و ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے اجلاس کو بتایا کہ نئے ٹیکس پیئرز کو شامل کیا گیا لیکن ٹیکس وصول نہیں کیا گیا۔کسٹمز آپریشن کے لیے سنگل ونڈو کا نظام لایا جارہا ہے۔انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ اسمگلنگ کی روک تھام  کے لیے وزیر اعظم نے کسٹمز کو لیڈنگ ایجنسی بنادیا ہے۔چمن اور طورخم پر جو کچھ بھی ہوگا ذمہ داری کسٹمز کی ہوگی۔ آڈٹ کیلیے رسک بیسڈ آڈٹ کا نظام لایا جارہا ہے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔