سندھ پبلک سروس کمیشن کے مقابلے کے امتحان میں جعلسازی کا انکشاف، نیب کا نوٹس

کراچی: سندھ پبلک سروس کمیشن کے مقابلے کے امتحان میں جعلسازی کا انکشاف، نیب کا نوٹس

اسسٹنٹ رجسٹرار، اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر اور ای ٹی او کی بھرتیاں کی گئیں،مذکورہ جعلسازی 17 گریڈ کی 30 آسامیوں پر کی گئی۔نیب

کراچی(ویب ڈیسک )قومی احتساب بیورو (نیب)سندھ نے 3 محکموں میں افسران کی جعلی بھرتیوں کے معاملے پر تحقیقات شروع کردیں، کامیاب امیدواروں کی فہرست میں نام تبدیل کر کے 30 آسامیوں پر جعلی بھرتیاں کی گئیں۔تفصیلات کے مطابق سندھ پبلک سروس کمیشن کے مقابلے کے امتحان 2018 میں جعلسازی کا انکشاف ہوا ہے جس کے تحت سندھ کے 3 محکموں میں افسران کی جعلی بھرتیاں کی گئیں۔مذکورہ محکموں میں کو آپریٹو سوسائٹی، ایکسائز اور خوراک شامل ہیں۔جعلی بھرتیوں کے معاملے پر قومی احتساب بیورو (نیب)سندھ نے تحقیقات شروع کردی، نیب نے چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن سے ریکارڈ طلب کرلیا۔نیب کے مطابق اسسٹنٹ رجسٹرار، اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر اور ای ٹی او کی بھرتیاں کی گئیں۔مذکورہ جعلسازی 17 گریڈ کی 30 آسامیوں پر کی گئی، مقابلے کے امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں نام تبدیل کیے گئے۔نیب نے کہا کہ رجب، نعیم شریف، وقار احمد، فہد انور بلوچ، ولید کنزہ، نزاکت علی، نعمان احمد، زبیر اکبر و دیگر اشخاص کی جعلی بھرتیاں ہوئیں۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.