jobaidan
< سٹائل div class=”medium-insert-images ui-sortable”>

امریکی انتخابات، جو بائیڈن آگے

امریکی صدارتی انتخاب کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو ری پبلکن امیڈوار ڈونلڈ ٹرمپ پر اب تک سبقت حاصل ہے۔

امریکی نیٹ ورکس کے مطابق ڈیموکریٹ نے ایوان نمائندگان میں اکثریت برقرار رکھی ہے، جوبائیڈن نے 237 جبکہ ڈونلڈٹرمپ نے 210 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیئے ہیں۔

امریکا کی 19 ریاستوں میں ری پبلکن امیدوار ٹرمپ کو برتری حاصل ہے، 16 ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدوار بائیڈن کو برتری حاصل ہے، جبکہ 16 ریاستوں سے صدارتی انتخاب کے نتائج آنا باقی ہیں۔

ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے نیوہیپمشائر میں کامیابی حاصل کر لی، امریکی ریاست الاباما میں سینیٹ کی نشست ری پبلکن کے پاس برقرار رہی ہے۔

ری پبلکن صدارتی امیدوار ٹرمپ نے نبراسکا سے بھی کامیابی حاصل کر لی ہے، کیلی فورنیا سے بائیڈن کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے 55 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیئے۔

جو بائیڈن نےاوریگن سے 7 الیکٹورل ووٹ ، ریاست واشنگٹن سے 12 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ وائے اومنگ سے ٹرمپ کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے وہاں سے 3 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیئے ہیں۔

ایریزونا سے 11 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے بائیڈن کامیاب ہوئے ہیں، 2016ء کے امریکی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ٹرمپ ایریزونا سے کامیاب ہوئے تھے۔

اوہائیو سے ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 الیکٹورل ووٹ جبکہ ٹیکساس سے 38 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔

آئیوا سے ٹرمپ نے 6 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیئے، ورجینیا سے بائیڈن نے 13، مین سے 4 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیئے۔

رہوڈ آئی لینڈ اور ہوائی سے بائیڈن نے 4 4 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیئے۔

منی سوٹا سے بائیڈن نے 10 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیئے۔

بائیڈن ریاست ڈیلویئر، واشنگٹن ڈی سی، الینوئس، میری لینڈ، میسا چیوسٹس، روڈ آئی لینڈ، ورجینیا، نیوجرسی، کنیٹی کٹ اور ورمونٹ میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے امیدوار کا 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن کچھ دیر میں اپنا بیان دیں گے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔