اسلام آباد (ویب ڈیسک)

وفاقی حکومت کا نجی تعلیمی اداروں کو ریلیف دینے کا بڑا فیصلہ، کم فیس والے پرائیویٹ سکولوں کو بلاسود قرضے دینے، رجسٹریشن میں ایک سال کی توسیع، فیڈرل بورڈ میں داخلہ جات بھجوانے کی آخری تاریخ میں اضافہ جبکہ ہفتہ میں ایک دن بچوں کو سکولوں میں بلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

یہ فیصلہ گزشتہ روز نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ ایسوسی ایشنز کے وفد کی وفاقی سیکرٹری تعلیم فرح حامد سے ملاقات کے موقع پر کیا گیا، چیئر پرسن پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) ضیا بتول بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ وفد میں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے صدر ملک ابرار حسین، پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے صدر راجہ ارشد محمود، نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز(نپس) کے صدر چودھری عبیداللہ، ڈاکٹر افراہیم ستی، ملک عمران بھی شامل تھے۔

ملک ابرار حسین نے واضح کیا کہ 11 جنوری کے بعد حکومت کے فیصلے کے مطابق تمام تعلیمی ادارے مکمل کھول دیئے جائیں گے اور مزید بندش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔