نئی دہلی (ویب ڈیسک)

مزدوروں کو اجرت کی ادائیگی میں بے قاعدگیوں کی تفصیلات منظرعام پر آنے کے بعد ایپل نے بھارت میں اپنی مصنوعات کی تیاری پر پابندی عائد کردی ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت نرساپور میں واقع وسٹرون کارپوریشن میں مزدوروں کو اکتوبر اور نومبر کی تنخواہوں اور اجرت کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کے بعد کمپنی پر فوری پابندی عائد کردی ہے۔

گزشتہ ہفتے وسٹرون کمپنی میں مزدوروں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر پُر تشدد احتجاج کیا تھا جس میں فیکٹری کی کئی املاک کو نذر آتش کردیا گیا تھا۔ جلاؤ گھیراؤ پر قابو پانے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس کی نفری طلب کرنا پڑی تھی جب کہ کمپنی نے مزدوروں کے احتجاج سے اربوں روپے کے نقصانا کا دعوی بھی کیا۔

بعدازاں معاملے کی تحقیقات کے لیے کرناٹک کی ریاستی حکومت نے ایک رپورٹ تیار کی جس کے مطابق وسٹرون کمپنی کی جانب سے مزدوروں کو تنخواہوں اور اجرتوں کی ادائیگی میں بے قاعدی اور تاخیر کے ثبوت ملے۔

حکومتی رپورٹ آنے کے بعد ایپل نے بھی وسٹرون کمپنی کے معاملے پر تحقیقات کے لیے  اپنے افسران اور آڈیٹرز پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو وسٹرون میں ملازمین کو ادائیگیوں کے حوالے سے شکایات کی تحقیقات کرے گی۔

ایپل  کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں تاہم پہلے ہی مرحلے میں کمپنی کی جانب سے سپلائرز کے طے شدہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے اور جب تک ان شکایات کا ازالہ نہیں ہوتا اور کمپنی اصلاح احوال نہیں کرتی اس سے مصنوعات تیار نہیں کروائی جائیں گی۔

ایپل جیسی بڑی کمپنی کی جانب سے بھارت میں اپنی مصنوعات کی تیاری کو اس بڑے پیمانے پر روکنے کو مشکلات میں گھری معیشت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔