اسلام آباد (ویب ڈیسک)

وفاقی حکومت نے مہمند اوردیامیربھاشا ڈیم کیلئے 50 کروڑڈالرمالیت کے یورو بانڈ جاری کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی حکومت نے مہمند اوردیامیربھاشا ڈیم کیلئے 50 کروڑڈالرمالیت کے یورو بونڈ جاری کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ یوروبانڈ واپڈا کی طرف سے مہمنداوردیامیر ڈیم کیلئے درکارغیرملکی فنانس پوری کرنے کے لیے جاری کرے گا۔

اجلاس میں چھ نکاتی ایجنڈا منظوری کیلئے پیش کیا گیا۔ وفاق کا کراچی ٹرانسفارمیشن پلان فریم ورک کی منظوری پہلے متعدد بار ای سی سے موخر ہوچکی اور اب آج ہونیوالے ای سی سی اجلاس ایجنڈے کا دوبارہ حصہ ہے اور توقع ہے کہ منظورہوجائے گا۔ وفاق کا کراچی کے منصوبوں کیلئے 739 ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے اور فاقی حکومت کی آئندہ 3 سال کے دوران فنڈز فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

علاوہ ازیں ای سی سی کےاجلاس میں سوئی گیس کمپنیوں کے ایل پی جی ایئر مکس پراجیکٹس کے التواء کی سمری بھی زیر غور آئے گی جبکہ اجلاس میں گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ(جی اہچ پی ایل)کے قرضوں کی ریپیمنٹ اور مستقبل میں جی آئی ڈی سی سےانٹرسٹیٹ گیس سسٹمز لمیٹڈ(آئی آیس جی ایس ایل)گیس امپورٹ و انفراء سٹرکچر پراجیکٹس کی مد میں درکار اخراجات کی سمری کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس کیلئے وزیراعظم کی کم لاگت ہاوسنگ سکیم اور دیگر اخراجات کی مد میں 59 کروڑ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری کا بھی امکان ہے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔