اسلام آباد (ویب ڈیسک )  وزیر اعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ انھیں بھی غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی این جی اوز سے متعلق رپورٹس ملی ہیں، وفاقی کابینہ نے وزیر اعظم کو تجویز دی ہے کہ ایسی این جی اوز کے خلاف سخت کارروائی کے فیصلے کا وقت آ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، کابینہ ذرایع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ای یو ڈس انفو لیب کے انکشافات زیر بحث آئے۔

اجلاس میں کابینہ نے وزیر اعظم کو بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والی این جی اوز کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی تجویز دی، وزیر اعظم نے کہا مجھے بھی غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی این جی اوز سے متعلق رپورٹس ملی ہیں۔

کابینہ ذرایع کے مطابق وفاقی وزرا نے اجلاس میں وزیر اعظم سے کہا کہ یہ فیصلے کا وقت ہے، اس معاملے پر سخت کارروائی کرنی چاہیے، پاکستان میں بہت سی این جی اوز بغیر رجسٹریشن کام کرتی ہیں اور غیر ملکی فنڈنگ لیتی ہیں۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی غیر رجسٹرڈ این جی اوز ملک کے اندر اپنا ایجنڈا چلا رہی ہیں۔ اجلاس میں تجویز کے بعد وزیر اعظم نے ایسی این جی اوز پر اہم اجلاس کل طلب کر لیا۔

اجلاس میں وزیر اقتصادی امور، وزیر خارجہ، وزیر اطلاعات، مشیر قومی سلامتی و دیگر وفاقی وزرا شریک ہوں گے، کابینہ ذرایع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے غیر رجسٹرڈ این جی اوز کی فنڈنگ اور رجسٹریشن کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

ذرایع کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر ملکی فنڈنگ والی غیر رجسٹرڈ این جی اوز کے خلاف وزارت داخلہ کو حال ہی میں شکایات ملی تھیں۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔