Minister for Interior Sheikh Rashid Ahmed alongwith Minister for Defense, Minister for Information, Minister for Law and Minister for Science & Technology addressing a press conference at Ministry of Interior, Islamabad on January 14, 2021.

اسلام آباد: (ویب ڈیسک ) وفاقی وزرا نے کہا ہے کہ اپوزیشن ملک میں افراتفری پھیلانے کے درپے ہے، احتجاج جمہوری حق لیکن قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے، امید ہے مخالفین کوئی مسئلہ پیدا نہیں کریں گے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف نے تمام ثبوت دیئے۔ پاکستان کی سیاست میدان میں آگئی لیکن یہ بند گلی میں لے کر جانا چاہتے ہیں۔ مولانا مذہبی نعرے لگا کر مذہبی اشتعال نہ پھیلائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا مشرق سے مغرب ہو جائے، عمران خان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ عوام کی طاقت ان کیساتھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مدارس کے حوالے سے نور الحق قادری اور میرے سمیت کمیٹی بنائی گئی ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پہلے ہی دن انہوں نے اسمبلی کو نہیں چلنے دیا۔ اگر الیکشن ٹھیک نہیں تھا تو اپوزیشن کو ثبوت دینا چاہیے تھا۔ الیکشن کے حوالے سے کمیٹی میں آج تک اپوزیشن نہیں آئی۔ یہ ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ سے درخواست ہے کہ الیکشن کمیشن آکر اپنی پارٹی فنڈنگ کے ثبوت بھی لے کر آئیں۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا ہر پارٹی کا حق ہے۔ تاہم فیض آباد دھرنے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ہر جگہ دھرنا اور احتجاج نہیں ہو سکتا، اگر یہ لوگ قانون کو مانتے ہیں تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو سامنے رکھیں۔

فروغ نسیم نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لے۔ اپوزیشن قانون اور آئین کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کرے۔ اگر قانون سے ہٹ کر کچھ ہوا تو پھر ایکشن لیا جائے گا۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔