ٹیکس آمدن بڑھانے کیلئے کیش لیس اکانومی کی پالیسی اپنانا ہوگی:خواجہ حبیب

حکومت کا فوکس بجلی اور گیس پر ٹیکس بڑھانے پر ہیٹیکس ریفارمز پر کوئی توجہ نہیں

 برآمدات بڑھنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں لیکن کرنٹ اکائونٹ خسارہ پھر سے سر اٹھانے لگ گیا ہے

لاہور (ویب ڈیسک)

ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ ٹیکس بڑھانے کے بجائے ٹیکس ریفارمز کی ضرورت ہے،کیش لیس اکانومی کی پالیسی اپنا کر ٹیکس آمدن میں ہدف سے زیادہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایرانی انقلاب کی 42 ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا فوکس بجلی اور گیس پر ٹیکس بڑھانے پر ہے لیکن ٹیکس ریفارمز پر کوئی توجہ نہیں ہے۔پاکستانی عوام سوئی سے لے کر جہاز کی خریداری تک ہر چیز پر ٹیکس ادا کرتے ہیں پھر بھی حکومت ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس وقت جن پالیسیز پر حکومت کام کر رہی ہے مستقبل میں ان سے لگ بھگ ٹیکس ہدف حاصل کرنا شائد ممکن ہو لیکن ٹیکس اکٹھا کرنے اور اسے سرکاری خزانے میں بحفاظت جمع کروانے کے لیے ایک شفاف نظام بنانا ہو گا جیسے اس وقت چین اور دیگر ہمسایہ ممالک میں چل رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر کوئی ایسی پالیسی نظر نہیں آ رہی کہ جس کی بنیاد پر مستقبل میں حالات بہتر ہو سکیں۔ برآمدات بڑھنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں لیکن کرنٹ اکائونٹ خسارہ پھر سے سر اٹھانے لگ گیا ہے۔خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ پنجاب کا پی آئی ٹی بی جیسا ڈیپارٹمنٹ پوری دنیا میں آن لائن آئی ٹی سروسز فراہم کر رہا ہے۔ اس کی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے تمام بینکوں اور موبائل اکائونٹس کو ملا کر یونیفائیڈ انٹرفیس سسٹم کے تحت جوڑا جائے اور کیش لیس معیشت کو فروغ دیا جائے۔ اس سے نہ صرف عوامی ڈیٹا حکومت کے پاس جمع ہو سکے گا بلکہ ود ہولڈنگ ایجنٹس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا اور ٹیکس چوری کے معاملات بھی قابو میں آ جائیں گے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.