پرویز رشید کی درخواست سماعت کیلئے منظور، پنجاب ہائوس کے افسر، الیکشن کمیشن کو نوٹسز

الیکشن ٹربیونل کاپنجاب ہائوس کاافسرریکارڈ سمیت، الیکشن کمیشن سے جواب منگل طلب
پرویز رشید نے واجبات ادا کرنے کی کوشش کی 28گھنٹے پیسے لے کر پھرتے رہے ،کسی وصول نہیں کیے ،وکیل
جب پنجاب ہائوس سے چیک آئوٹ کیا تب ہی یہ رقم جمع کرانی چاہئے تھی،جسٹس شاہدوحید

لاہور (ویب ڈیسک)

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید  پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید کے سینیٹ الیکشن کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لئے منظور کر لی۔ عدالت نے پنجاب ہائوس کے متعلقہ افسر کو ریکارڈ سمیت آج (منگل کو) ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔جبکہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو بھی نوٹسز جاری کرتے ہوئے آج (منگل کو) جواب طلب کر لیا ہے۔ جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ ایک ہی کچن میں زیادہ شیف ہو جائیں تو ایسی ہی پیٹیشن دائر ہوتی ہے۔ اس پر پرویز رشید کے وکیل چوہدری اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سینیٹ میںنمائندگی کرنا پرویز رشید کا بنیادی حق ہے، پرویز رشید نے واجبات ادا کرنے کی کوشش کی لیکن واجبات وصول نہیں کئے گئے، پرویز رشید28گھنٹے پیسے لے کر پھرتے رہے کسی نے رقم وصول نہیں کی، حکومت کی جانب سے واجبات کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا کسی پرائیویٹ شخص نے اعتراض اٹھایا ہے۔ اس پر جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ پرویز رشید نے مقررہ وقت پر رقم کیوں جمع نہیں کروائی، پرویز رشید نے جب پنجاب ہائوس سے چیک آئوٹ کیا تب ہی یہ رقم جمع کروا نی  چاہیئے تھی۔ اس پر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کے مطابق رقم کسی بھی وقت جمع کروائی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز رشید کو پنجاب ہائوس کے واجبات کی ادائیگی کے لئے فوٹو کاپی نوٹسز جاری کئے گئے۔ اپیل پر مزید سماعت آج (منگل کو) ہوگی۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسر نے پنجاب ہائوس کے واجبات ادا نہ کرنے کے معاملہ پر پرویز رشید کے تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے جس کے خلاف پرویز رشید نے لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل میں درخواست دائر کی تھی۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.