وفاق المدارس الشیعہ نے ضمنی امتحانات کے نتائج کا علان کردیا
قرآن سے رابطہ، اُنس ،محبت ہر مسلمان کے لئے لازم اور باعثِ سعادت ہے
قرآن مُردوں کے لئے نہیں، زندوں کے لئے ہے،آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی

لاہور (ویب  نیوز) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے درجہ شہادت الثانویہ العامہ سے شہادة العالمیہ تک کے ضمنی امتحانات کے نتائج کا علان کردیا ہے۔ نیز حفظ القران ،تجوید و قرات اور پیش نمازی کے ضمنی امتحانات 2020ء کابھی اعلان کردیا گیاہے۔ نتائج کو وفاق المدارس الشیعہ کی ویب سائیٹ wmshia.comپر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔وفاق کی طرف سے جاری اعلامیہ میں اعلان کیا گیا ہے کہ ری چیکنگ کی درخواستیں ایک ماہ کے اندر ناظم امتحانت کے نام مقررہ فیس کے ساتھ بھجوائی جاسکتی ہیں۔جبکہ مدارس کو بھی گزٹ کی فوٹو کاپی بذریعہ ڈاک بھجوائی جارہی ہے۔واضح رہے کہ وفاق المدارس الشیعہ کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی اپنے خطابات ،خطباتِ جمعہ اور مجالس میں ہمیشہ قرآن فہمی پر زور دیتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ قرآن سے کسی بھی طرح کا تعلق،رابطہ، اُنس ،محبت ہر مسلمان کے لئے لازم اور باعثِ سعادت ہے۔قرآن مجید کو دیکھنے اور تلاوت سے لے کر حفظ کے تمام مراحل اللہ کی اطاعت و رضا کے عین مطابق ہیں لیکن اصل فائدہ تب ہے جب ترجمہ سے آشنائی اور غور و فکر کی عادت بھی ہو۔وہ ہمیشہ اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ قرآن مُردوں کے لئے نہیں، زندوں کے لئے ہے،قبرستانوں میں نہیں، گھروں میں پڑھنے اور عمل کرنے کے لئے نازل ہوا ہے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔