کراچی:حکومت کے الیکٹرک کو اضافی400میگا واٹ بجلی فراہم کرے گی۔ندیم بابر

کے الیکٹرک کو 150معکب فیٹ گیس یومیہ کی اجازت دیدی ہے جس سے 900میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔معاون خصوصی برائے پٹرولیم
کوئلے سے گیس اور لیکویڈ انجینئرنگ کے منصوبوں کے حوالے سے پالیسی فریم ورک پر شراکت داروں سے مشاورت کے موضوع پر مبنی کانفرنس سے خطاب

کراچی (ویب ڈیسک)

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو اضافی400میگا واٹ بجلی فراہم کرے گی ،کے الیکٹرک کو 150معکب فیٹ گیس یومیہ کی اجازت دیدی ہے جس سے 900میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی،ملک میںتوانائی کی یکساں پالیسی کا نفاذ چاہتے ہیں،توانائی کیلئے در آمدی ذرائع پر زیادہ انحصار کے باعث بجلی کی قیمتوںمیںاضافہ ہوا،وہ گزشتہ روز کراچی میںکوئلے سے گیس اور لیکویڈ انجینئرنگ کے منصوبوں کے حوالے سے پالیسی فریم ورک پر شراکت داروں سے مشاورت کے موضوع پر مبنی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کانفرنس سے خطاب سے میڈیا سے بات چیت میںکہنا تھا کہ کے الیکٹرک کے پاس ٹرانسمیشن کا نظام کمزور ہے،کے الیکٹرک نظام کی بہتری پر کام کررہی ہے، اگلے سال تک 2ہزار میگاواٹ بجلی ان کو اضافی فراہم کی جائے گی،سندھ کی گیس کی فروخت 2 ہزار ایم ایم سی ایف ڈی ہے اوراس میں پاور اور فرٹیلائزر کو بھی گیس دی جاتی ہے،دنیا میں کوئلہ پاور جنریشن کی بنیادی ضرورت تھی، ہم نے دس سال پہلے تک کوئلے سے بجلی کی پیداوار شروع ہی نہیں کی تھی،تھر کھلنے کے بعد 17 فیصد بجلی کی پیداوار ہورہی ہے اور ہمیں تھر سے صرف بجلی نہیں بلکہ تیل اور گیس کے لئے بھی کام کرنا ہے۔ندیم بابر کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے توانائی کی مقامی پیداوار پر زور دینے کی بجائے در آمدات کو ترجیح دی جس کی وجہ سے صارفین کو مہنگی داموں توانائی  مل رہی ہے،کوئلے سے گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کا حصول ملک کے لئے بڑی ضرورت ہے،ڈھائی سال میں ہم نے کوئی بھی انرجی پالیسی بغیر اسٹیک ہولڈرز کے نہیں بنائی،ہم نے صوبوں کو متبادل انرجی کے منصوبے میں شامل رکھا ہے،کووویڈ کی وجہ سے چیزیں رک گئی تھیں،ہم اسلام آباد میں پورے ملک کے لئے یکساں پالیسی بنا رہے ہیں اور اس میںصنعتوں کو بھی ہمارا ساتھ دینا ہوگا،ہمیں بھی اپنے انرجی شعبے کو کموڈیٹی میں تبدیل کرنا ہوگا،اس سے صارفین اور شہریوں کو بہترین نتائج حاصل ہونگے،پرائیویٹ سیکٹر کو اب انرجی شعبے میں آگے آنا ہوگا،ہمیں دنیا کا ساتھ چلنا ہوگا،ہمارے پاس اتنا فارن ایکسچینج موجود نہیں کہ انرجی سیکٹر میں لگایا جا سکے،ہم ایک مجموعی پالیسی کے تحت کام کررہے ہیں جس کے بہت جلد اچھے نتائج آئینگے،پالیسی بنانا حکومتوں کا کام ہے،ایک بار پالیسی بنانے کے بعد اہم کردار ریگولیٹر کا ہوتا ہے،ہم سب کو اس ملک کر ایک ملک گیر پالیسی بنانی ہے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم دنیا سے پیچھے رہ جائینگے،اس موقع پر صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ سندھ کو اس کا آئینی حق نہیں دیا جارہا ہے ،سندھ میں گیس کی پیداوار ہونے کے باوجود ہمیںگیس کی قلت کا سامنا ہے جس کا وفاقی حکومت کو تدارک کرنا ہوگا۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.