کورونا وائرس کی تیسری لہر’پنجاب کے 7 شہروں میں آج (پیر ) سے دوبارہ لاک ڈائون
مکمل لاک ڈائون 2 ہفتوں تک جاری رہے گا، عوام کی نقل و حرکت محدود ، ہر قسم کی سماجی، مذہبی اجتماع پر پابندی ہوگی
ریسٹونٹس کے اند اور باہر بیٹھ کر کھانے پر مکمل پابندی ہوگی، صرف کھانے خرید کر لے جانے یا منگوانے کی اجازت ہوگی
صوبے بھر میں ہر قسم کے کھیلوں، ثقافتی اور دیگر طرح کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد ہوگی،حکومت پنجاب

لاہور(ویب نیوز ) پنجاب حکومت نے کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پیشِ نظر صوبے کے 7 زیادہ کیسز والے شہروں میں آج (پیر ) سے لاک ڈائون لگا کر عوام کی نقل و حرکت محدود کردی۔  ایک سال کے عرصے کے بعد لگایا جانے والا مکمل لاک ڈائون 7 شہروں میں پیر سے نافذ ہوگا اور 2 ہفتوں تک جاری رہے گا۔ حکومت پنجاب نے ان 7 شہروں میں کووڈ 19 کے کیسز میں بڑے اضافے کے باعث لاک ڈائون لگایا ہے جس کی وجہ کورونا وائرس کی برطانوی قسم کے پھیلا ئوکو قرار دیا جارہا ہے۔اس ضمن میں جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں پنجاب پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور گجرات میں مکمل لاک ڈائون لگاتے ہوئے ان اضلاع کے اندر اور باہر عوام کی نقل و حمل محدود کردی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق اس دوران ہر قسم کی سماجی، مذہبی یا کسی بھی مقصد کے لیے اجتماع پر پابندی ہوگی جبکہ ان شہروں میں ہر طرح کے شادی ہالز، بینکوئٹس، کمیونٹی مراکز اور مارکیز بھی بند رہیں گے۔علاوہ ازیں مذکورہ بالا 7شہروں میں انِ ڈور ہر قسم کے اجتماع پر مکمل پابندی عائد ہوگی جبکہ آئوٹ ڈور ہونے والے اجتماع میں زیادہ سے زیادہ 50افراد کو شرکت کی اجازت ہوگی۔حکومت کا کہنا تھا کہ ریسٹونٹس کے اند اور باہر بیٹھ کر کھانے پر مکمل پابندی ہوگی البتہ صرف کھانے خرید کر لے جانے یا منگوانے کی اجازت ہوگی۔ان 7شہروں کے علاوہ صوبے بھر میں آئوٹ ڈور ہونے والے اجتماع میں زیادہ سے زیادہ 300 افراد شریک ہوسکیں گے اور تقریب کے لیے مختص دورانیہ 2 گھنٹے ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ صوبے بھر میں ہر قسم کے کھیلوں ، ثقافتی اور دیگر طرح کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد ہوگی ۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔