بلاول زرداری نے ایک بار پھر استعفیٰ دینے والے بیان کو ویٹو کردیا: حافظ حسین احمد

 بلاول زرداری نے ایک بار پھر استعفیٰ دینے والے بیان کو ویٹو کردیا: حافظ حسین احمد

 مولانا فضل الرحمن کا اسمبلیوں سے استعفیٰ کے بیان کو بلاول زرداری نے 24گھنٹوں سے پہلے ہی مسترد کردیا

 آزادی مارچ میں میاں نواز شریف اور مجوزہ رینٹل مارچ کے ذریعے مریم نواز کو لندن بھیجنے کا پلان بنایا گیا ہے

 پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کو 2018ء کے دھاندلی کی پیداوار اسی قومی اسمبلی کے ٹرک کی بتی کے پیچھے 2023ء تک لگائے رکھے گی

 نواز شریف نے اپنے مخصوص مقاصد کے لیے شہبازشریف کے بجائے مولانا فضل الرحمن کو نمائشی صدر بنادیا

 کوئٹہ/اسلام آباد/کراچی (ویب نیوز  ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا پی ڈی ایم کے مجوزہ رینٹل مارچ کے ساتھ ہی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے ایک بار پھر استعفیٰ دینے کے بیان کو 24 گھنٹے گذر نے سے پہلے ہی بلاول زرداری نے استعفے نہ دینے کا  بیان دیکر ”ویٹو“ کردیا ہے۔وہ اتوار کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول زرداری کے اس ”ویٹو نما“ بیان کواب 16مارچ کو پی ڈی ایم کے ہونے والے سربراہی اجلاس میں ماضی کی طرح اب بھی بادل ناخواستہ صرف ”گود“ ہی لیا جائے گا، جبکہ پیپلز پارٹی اسی طرح پی ڈی ایم کو 2018ء کے دھاندلی کی پیداوار اسی قومی اسمبلی کے ٹرک کی بتی کے پیچھے 2023ء تک لگائے رکھے گی ایک سوال کے جواب میں حافظ حسین احمد نے کہا کہ اصل میں   میاں نواز شریف نے اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے شہباز شریف کے بجائے مولانا فضل الرحمن کو پی ڈی ایم کا نمائشی صدر بنادیا اور آزادی مارچ کے حوالے سے بیمار ی کا ایک ڈرامہ کیا گیا اور اب مستقبل کے ”رینٹل مارچ“ میں بھی باپ کی طرح بیٹی کی لندن روانگی کا پلان لگتاہے جس کے لئے پہلے ایک ایسی چھوٹی سی سرجری جو پاکستان میں ممکن نہیں کے سہارے کی منصوبہ بندی کی گئی مگر اس میں ناکامی کے بعد اب محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کے سانحہ کے طرز کا حوالہ دیتے ہوئے جو نیا بیانیہ سامنے لایا گیاوہ نہ صرف انتہائی تشویشناک بلکہ انتہائی خطرناک مسائل کا خدانخواستہ شاخسانہ ثابت ہو سکتا ہے، اس لئے لگتا ہے کہ ”مجوزہ رینٹل مارچ“ بھی کسی کی ”لندن“ روانگی کا پلان ثابت ہو سکتاہے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.