بلدیاتی انتخابات کیس’ حکومت ملک چلانے کی اہل نہیں یا فیصلے کرنے کی؟ سپریم کورٹ

تین صوبوں میں حکومت کے باوجود مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری سے متعلق ایک فیصلہ نہیں ہو رہا
دو ماہ سے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کیوں نہیں ہوا؟پاکستان چلانے کی بنیاد ہی مردم شماری ہے،جسٹس فائز عیسی
عدالتی حکم کے باوجود اجلاس ملتوی ہونا آئینی ادارے کی توہین ہے، کوئی جنگ تو نہیں ہو رہی تھی جو اجلاس نہیں ہوسکا
سادہ الفاظ میں پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کروانا ہی نہیں چاہتی، کیا گورنر پنجاب وائسرائے ہیں،وہ عوام کے نمائندے ہیں یا صدر مملکت کا
گورنر پنجاب کو بتائیں کہ وہ کوئی سیاسی بیان نہیں دے سکتے، الیکشن کمیشن کے پاس وہی اختیارات ہیں جو سپریم کورٹ کے پاس ہیں،ریمارکس

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس میں سوال اٹھایاہے کہ حکومت ملک چلانے کی اہل نہیں ہے یا فیصلے کرنے کی؟ تین صوبوں میں حکومت کے باوجود مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری سے متعلق ایک فیصلہ نہیں ہو رہا،دوران سماعت سپریم کورٹ نے مقامی حکومتیں ختم کرنے کیلئے پنجاب حکومت کے آرڈیننس پر اظہار برہمی کیا ہے اور معاملہ تین رکنی بینچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا دیاہے،جسٹس قاضی فائیز عیسی اور جسٹس سردار طارق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی دوران سماعت عدالت کو بتا یا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ابھی تک مردم شماری سے متعلق فیصلہ نہیں ہو ا جس پر جسٹس قاضی فائیز عیسی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا حکومت ملک چلانے کی اہل نہیں ہے یا فیصلے کرنے کی؟ دو ماہ سے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کیوں نہیں ہوا؟پاکستان چلانے کی بنیاد ہی مردم شماری ہے، کیا مردم شماری کے نتائج جاری کرنا حکومت کی ترجیح نہیں؟ جسٹس فائز عیسی نے کہا تین صوبوں میں حکومت کے باوجود کونسل میں ایک فیصلہ نہیں ہو رہا، عدالتی حکم کے باوجود اجلاس ملتوی ہونا آئینی ادارے کی توہین ہے، کوئی جنگ تو نہیں ہو رہی تھی جو اجلاس نہیں ہوسکا،اب تو ویڈیولنک پر بھی اجلاس ہوسکتا ہے، جسٹس فائز عیسی نے کہا مردم شماری 2017 میں ہوئی تھی چار سال گزر گئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہامشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 24 مارچ کو ہوگا، حساس معاملہ ہے حکومت اتفاق رائے سے فیصلہ کرنا چاہتی ہے، جسٹس قاضی فائیز عیسی نے کہامشترکہ مفادات کونسل کی رپورٹ کو خفیہ کیوں رکھا گیا ہے؟ اچھا کام بھی خفیہ ہو تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، کیا ملک میں اس انداز میں حکومت چلائی جائے گی؟ عوام کو علم ہونا چاہیے کہ صوبے کیا کر رہے ہیں اور وفاق کیا، جسٹس فائز عیسی نے کہاالیکشن کمیشن کے مطابق حکومت کی جانب سے نیا بلدیاتی قانون لانے سے پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے،سادہ الفاظ میں پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کروانا ہی نہیں چاہتی،جسٹس قاض فائیز عیسی نے استفسار کیا کہ پنجاب اسمبلی میں کتنے ارکان ہیں،جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے موقف اپنایا کہ 374 ارکان پر مشتمل پنجاب اسمبلی ہے،جسٹس قاضی فائیز عیسی نے کہاکیا گورنر پنجاب ان 374 ممبران سے زیادہ اہل ہے،کون ہے گورنر پنجاب؟،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہاگورنر پنجاب کا نام چوہدری محمد سرور ہے،جسٹس قاضی فائیز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا گورنر پنجاب وائسرائے ہیں کیا گورنر پنجاب عوام کے نمائندے ہیں یا صدر مملکت کا انتخاب۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالتی استفسار پر کہا گورنر پنجاب وزیر اعظم کے مشورے پر صدر مملکت کی جانب سے تعینات کیے گئے ہیں۔ جسٹس قاضی فائیز عیسی نے کہاکیا ہم دوبارہ برطانوی راج میں داخل ہوچکے ہیں۔ایک بندے کی خواہش پر پوری پنجاب اسمبلی کو بائی پاس کیا گیا۔گورنر پنجاب پاکستانی ہیں یا باہر سے درآمد کیے گئے ہیں,؟ کیا گورنر پنجاب دوہری شہریت کے حامل ہیں؟۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہاگورنر پنجاب کی پیدائش پاکستان کی ہے تاہم انھوں نے زندگی کا کچھ حصہ برطانیہ میں گزارا ہے،برطانوی شہریت بھی تھی تاہم گورنر پنجاب نے برطانوی شہریت ترک کر دی ہے۔ جسٹس قاضی فائیز عیسی نے کہاگورنر پنجاب کو بتائیں کہ وہ کوئی سیاسی بیان نہیں دے سکتے،گورنر پنجاب سیاسی سرگرمی بھی نہیں کر سکتے،پنجاب حکومت الیکشن کمیشن کے تابع ہے،الیکشن کمیشن کے پاس وہی اختیارات ہیں جو سپریم کورٹ کے پاس ہیں،دوران سماعت عدالت نے بات کرنے کیلئے بار بار ہاتھ کھڑا کرنے پر سیکرٹری بلدیات پنجاب نورالامین مینگل کی سرزنش کردی جسٹس قاضی فائیز عیسی نے کہادوبارہ ہاتھ کھڑا کیا تو باہر نکال دوں گا،آپ سکول میں نہیں آئے کہ ہاتھ اٹھا رہے ہیں، نو رالامین مینگل نے کہاالیکشن کمیشن کو بلدیاتی قانون میں ترمیم سے آگاہ کیا تھا، جسٹس قاضی فائیز عیسی نے کہاکیا آپ اتنے بڑے افسر ہیں کہ عملہ آپکو بریف کرے گا؟ مجھے تعجب ہو رہا ہے کہ پنجاب حکومت کیا کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت سے اپوزیشن برداشت نہیں ہوتی۔اب پنجاب حکومت ایسا کرے کہ چار ماہ کے بعد نیا آرڈیننس لے آئے۔ پنجاب حکومت نے دانستہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کو بنیادی مسائل کے حل سے محروم کیا ہے۔ لوگوں کے بنیادی مسائل سٹرک اور پانی وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ کیا گورنر پنجاب پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ جو عمل گورنر پنجاب نے کیا وہ وائس رائے بھی نہیں کرتے تھے۔ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کو آپ نے محروم کر دیا ہے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہااقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی حکومت کا انتخابی وعدہ اور منشور تھا، دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو جانب سے پی ٹی آئی منشور کا تذکرہ مہنگا پڑ گیا جسٹس قاضی فائیز عیسی نے کہاپہلی بار دیکھا کوئی سرکاری وکیل سیاسی منشور کا حوالہ دے رہاکیا حکومت اور سیاسی جماعت میں کوئی فرق نہیں رہا؟ آئین کو کچھ تو عزت دیں، آمروں نے آئین کو اتنا پامال کیا شاید آپکی نظر میں اسکی عزت نہیں رہی،منشور اور انتخابی وعدے سیاسی جماعتوں کے ہوتے ہیں، حکومت کا واحد منشور صرف آئین ہوتا ہے، جسٹس قاضی فائیز عیسی نے کہاپنجاب حکومت کا بلدیاتی آرڈیننس سپریم کورٹ پر حملہ ہے،کیاپنجاب حکومت اقتدار کے نشے میں پنجاب کو ملک سے الگ کرنا چاہتے ہے؟لگتا ہے پنجاب میں مشرقی پاکستان والا سانحہ دہرانے کا منصوبہ ہے،لوگوں کو جمہوریت سے متنفر کیا جا رہا ہے ؟ کیا جمہوریت سے متنفر کرکے آمریت کی راہ ہموار کی جا رہی ہے؟ لگتا ہے پنجاب حکومت کو عوام سے شدید نفرت ہے، جسٹس فائز عیسی نے کہافوج میں آرڈیننس کا مطلب اسلحہ ہوتا ہے،آئین کیساتھ کھیلا جا رہا ہے، سارا ملک برباد کر دیا۔برطانوی وائسرائے بھی ایسا نہیں کرتے تھے جو گورنر پنجاب نے کیاکیا قانون شکنی پر حکومت کو قائم رہنا چاہیے؟ملک پنجاب حکومت کا نہیں ہمارا ہے، جمہوریت بلدیاتی اداروں سے پی پھلتی پھولتی ہے دوران سماعت جسٹس قاضی فائیز عیسی نے الیکشن کمیشن کے نمائندوں سے استفسار کیا کہ کیا سینیٹ چیئرمین کا انتخاب الیکشن کمیشن نے کرایا؟ جس پر الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتا یا کہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب سینیٹ خود کراتی ہے۔ جس پر جسٹس قاضی فائیز عیسی نے استفسار کیا کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن چیئرمین سینیٹ انتخاب نہیں کرائے گا؟ جس پر الیکشن کمیشن کے ڈی جی لا نے کہا آرٹیکل 60 کے تحت سینیٹ کا اختیار ہے کہ چیئرمین منتخب کرے، جسٹس قاضی فائیز نے کہاکیا سینیٹ رولز میں لکھا کے کہ الیکشن کمیشن کا تعلق نہیں؟ چلیں اس کو ابھی رہنے دیں، چیئرمین سینیٹ کا الیکشن کرانے والا بندا الیکشن کمیشن کا نہیں لگ رہا تھا، عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ حیران کن ہے مشترکہ مفادات کونسل سے 2017 کی مردم شماری کی منظوری یا نا منظوری نہیں ہوئی ۔مشترکہ مفادات کونسل آئینی باڈی ہے،مردم شماری کا معاملہ چار سال سے مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التوا ہے مشترکہ مفادات مردم شماری کے معاملہ پر ضروری اقدامات اٹھائے کونسل اجلاس مردم شماری کے معاملہ کو ترجیح دیں عدالت نے قرار دیا کہ جس انداز میں آرڈیننس جاری ہو رہے ہیں خاموش نہیں بیٹھ سکتے آئین پر عمل اور عوام کی مرضی تسلیم نہ کرکے آدھا ملک گنوا دیا، عدالت نے پنجاب میں بلدیاتی حکومت کی تحلیل اور بلدیاتی الیکشن کیس چیف جسٹس کو بھجوا تے ہوے قرار دیا کہ چیف جسٹس درخواستوں پر سماعت کیلئے تین رکنی بنچ تشکیل دیں، رجسٹرار آفس انتخابات سے متعلقہ مقدمات جلد مقرر کرے، اہم نوعیت کے مقدمات جلد نہ نمٹانے سے عدلیہ کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.