حکومت کو پی ڈی ایم سے کوئی خطرہ نہیں، مہنگائی بڑا چیلنج ہے:وزیراعظم

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

 وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے لیے مہنگائی بڑا چیلنج ہے، مہنگائی سمیت عوامی مسائل کا ادراک ہے، اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

عمران خان نے اپوزیشن کو بات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین اگر سنجیدہ ہیں تو انتخابی اصلاحات پر پارلیمنٹ میں مذاکرات کریں۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف بی آر بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری روکنے کے لئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعار ف کرانے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ شوگر انڈسٹری ، سیمنٹ انڈسٹری، فرٹیلائزر انڈسٹری اور سگریٹ انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری ہوتی ہے، 40 فیصد سگریٹ بلیک میں فروخت کئے جاتے ہیں، ان پر ٹیکس نہیں دیا جاتا ،اس سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، گزشتہ 15 سال سے ایف بی آر کوشش کررہی ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کیا جائے اور ٹیکس کے نظام کو خودکار بنایا جائے لیکن ہر بار اس کوشش کو سبوتاژ کیاجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ یکم جون سے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کرا دیا جائے گا۔ اب سندھ ہائی کورٹ نے اس حوالے سےحکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔ کابینہ کے ارکان کو اس بات کا اندازہ ہو نا چاہیے کہ خود کار نظام نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں کس نوعیت کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے اور ملک میں آٹو میشن ہونے نہیں دی جا رہی۔ ایف بی آر نے صرف شوگر انڈسٹری پر پچھلے 5 سال میں 400 ارب روپے کا ٹیکس لگایا ۔ اگر ٹریک اور ٹریس سسٹم ہوتا تو اتنی ٹیکس چوری ہونی ہی نہیں تھی ۔ سگریٹ انڈسٹی میں 98 فیصد صرف 2کمپنیاں دیتی ہیں ، باقی 40 فیصد فروخت ہونے والی سگریٹس پر ٹیکس ہی نہیں دیاجاتا ہے۔ جب تک ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نافذ نہیں ہوتا ٹیکس چوری روکی نہیں جاسکتی ۔

ان کا کہنا تھا کہ طاقتور شعبوں کی ٹیکس چوری نہ روکے جانے کی وجہ سے بالواسطہ ٹیکس عائد کرنا پڑتے ہیں جس سے مہنگائی ہوتی ہے اور اشیا کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی ختم کرانے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور عدالت کو بتایا جائے کہ یہ کسی کا ذاتی معاملہ نہیں ۔ ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور عوام کو مہنگائی کے ذریعے اس کا پیسہ دینا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرانے کے معاملے پر کابینہ کے ہر اجلاس میں پیشرفت سے آگاہ کیا جا نا چاہیے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ملک کے انتخابی نظام کو شفاف بنانے کے لئے ناگزیرہو چکی ہے۔ سب شور مچاتے ہیں کہ الیکشن ٹھیک نہیں ہوا، الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے الیکٹرانک مشین متعارف کرائی جائے ۔الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے کابینہ کے ہر اجلاس میں پیشرفت سے آگاہ کیا جائے

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.