وفاقی کابینہ میں آئل اسکینڈل میں ملوث کمپنیوں کیخلاف کارروائی کی منظوری

کابینہ نے8ارب 70کروڑ روپے کے رمضان پیکیج کی  بھی منظوری دیدی
افغان باشندوں کے سمارٹ کارڈز جاری کرنے کا فیصلہ
وفاقی سیکرٹری  ماہانہ ایک بار بلوچستان کا دورہ کرے گا ۔
وزیر سائنس ٹیکنالوجی  فواد چوہدری، وزیر صنعت و تجارت حماد اظہر کی میڈیا بریفنگ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

وفاقی کابینہ نے آئل اسکینڈل میں ملوث کمپنیوں کیخلاف کارروائی کی منظوری دیدی،8ارب 70کروڑ روپے کے رمضان پیکیج کی  بھی منظوری دیدی گئی، پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کے سمارٹ کارڈز جاری کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا گیا جب کہ ہر وفاقی سیکرٹری  ماہانہ ایک بار بلوچستان کا دورہ کرے گا ۔ یہ فیصلے منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں  کیے گئے ہیں۔ کابینہ نے مجموعی طورپر معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام شروع کرنے پر کابینہ  کے ارکان نے  وزیراعظم کو مبارکباد دی ہے جبکہ پاکستان سمیت  دنیا بھر سے اس پروگرام میں عطیات دینے کیلئے  دلچسپی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ کابینہ نے وزارت داخلہ کو اسلحہ لائسنس کی یکساں پالیسی کو حتمی شکل دینے کا کام تیز کرنے کی  ہدایت کردی گئی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں ٹیکس چوری کے خلاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو گزشتہ 15 برس سے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لانے کی کوشش کررہا ہے لیکن ہر مرتبہ اس کے اقدامات کو سبوتاژ کردیا جاتا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے وفاقی حکومت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ یکم جون سے ٹریک سسٹم نافذ العمل ہوگا۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایف بی آر کے ٹریک سسٹم کے خلاف سندھ ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کردیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایف بی آر نے گزشتہ پانچ برس میں صرف شوگر ملز انڈسٹری پر 400 ارب روپے کا ٹیکس لگایا۔انہوں نے زور دیا کہ مکمل تحقیقات کے بعد مذکورہ انڈسٹری پر ٹیکس لگایا گیا لیکن اگر ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم ہوتا تو وقت اور توانائی سمیت وسائل زیادہ خرچ نہ ہوتے۔عمران خان نے کہا کہ جب تک ایف بی آر میں ٹریس اور ٹریک سسٹم نافذ العمل نہیں ہوگا اس وقت تک ٹیکس چوری نہیں روک سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس چوری کے نتیجے میں حکومت کو ان ڈائریکٹ ٹیکس لگانے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی ہوتی ہے۔وزیر اعظم نے وزیر قانون فروغ نسیم کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ سندھ ہائیکورٹ میں ٹریک سسٹم کے نفاذ کے خلاف حکم امتناع کو ختم کرانے کے لیے عدالت کو باور کرائیں کہ یہ اقدام ملکی معیشت کے لیے کلیدی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین  الیکشن کو شفاف بنانے کے لیے ناگزیر ہوچکی ہے۔انہوں نے کابینہ اجلاس میں زور دیا کہ ہر اجلاس میں ای وی ایم سے متعلق کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہر انتخاب کے بعد دھاندلی کا شور مچ جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ای وی ایم اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ووٹنگ کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔اجلاس کے بعد پی آئی ڈی کے میڈیا سنٹر میں وزیر صنعت و تجارت حماد اظہر کے ہمراہ بریفنگ دیتے ہوئے وزیر سائنس ٹیکنالوجی  فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ نے 7.8ارب روپے کے رمضان پیکج کی منظوری دی ہے، وزیراعظم کی پوری کوشش ہے کہ مہنگائی کا بوجھ لوگوں پر کم سے کم پڑے اور 7.8 ارب روپے کا پیکج اسی کوشش کا حصہ ہے۔ وزیر اعظم کا سب سے زیادہ وقت مہنگائی کو نیچے لانے پر صرف ہوتا ہے اور ہمیں اتنی تباہ حال معیشت ملی تھی کہ تمام کوششوں کے باوجود قرضوں کے بوجھ سے نمٹنا آسان نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلٹی اسٹورز ایک تباہ شدہ ادارہ تھا لیکن حماد اظہر نے ابھی  خوشخبری سنائی ہے کہ اس سال کے آخر تک وہ خسارے سے باہر آ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، یہ ہمیں تیسری لہر کا سامنا ہے، پہلے جو دو لہر آئی تھیں اس کا ہم نے بڑی کامیابی سے مقابلہ کیا تھا اور کورونا سے جتنا نقصان باقی دنیا کو ہوا ہے، پاکستان کو اس کا عشر عشیر بھی بھگتنا نہیں پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت بھی مستحکم رہی اور جانی نقصان بھی کم رہا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم نے بڑی جلدی اقدامات شروع کردیے تھے اور کیسز کی شرح کم رہی، ہم نے جب پہلی لہر آئی تھی تو جو پالیسی بنائی تھی وہ بہت کامیاب رہی تھی اور اسی پر عمل کر کے ہم اسی پر قابو پا لیں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس میں الیکشن کی شفافیت پر بات کی، تحریک انصاف کی پوری تحریک دو ستونوں احتساب اور شفاف انتخابات پر کھڑی ہے اور شفاف انتخابات کے لیے وزیر اعظم کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ہم ایسی اصلاحات متعارف کرا سکیں جس کی بدولت شفاف الیکشن ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ای وی ایم مشین پر وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ کابینہ کو ہر ہفتے بتایا جائے گا کہ وہ کس مرلے پر ہے اور ان میں جو شرائط ہیں ان پر ہم کس حد تک عمل کر چکے ہیں اور ہمارے الیکشن کے مینوئل سسٹم کو ہم کتنی جلدی مشین پر لا سکتے ہیں تاکہ کوئی بھی جماعت یہ نہ کہہ سکے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کے 85 اداروں میں سے 51 منافع میں ہیں اور ریلویز، پی آئی اے، سوئی سدرن، پشاور الیکٹریسٹی، جینکو تھری ناردرن پاور جیسے خسارے میں چلنے والے اداروں کا وزیراعظم نے فارنزک آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے اور 30 جون 2021 تک یہ عمل مکمل ہو جائے گا اور اگلے مرحلے میں پاکستان پوسٹ، کوئٹہ الیکٹریسٹی کمپنی، حیدرآباد، لاہور اور سکھر الیکٹریسٹی سپلائی کمپنی کا آڈٹ کرایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے ممنوعہ اور غیرممنوعہ اسلحہ لائسنس کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے ان کے اجرا کی منظوری دی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کو اسلحہ لائسنس کی جامع پالیسی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، پہلے 2012 کی پالیسی چل رہی تھی لیکن اب 2020 کی پالیسی لارہے ہیں۔وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے بتایا کہ کابینہ نے ان افغان پناہ گزینوں کے اسمارٹ کارڈ کے اجرا کی منظوری دی ہے جن کے پاس رجسٹریشن کا ثبوت موجود ہے اور اس کارڈ میعاد دو سال ہو گی، اس کارڈ میں ان افراد کی اضافی معلومات جیسے سماجی اور معاشی تفصیلات، پاکستان میں نقل و حرکت اور اہلخانہ کے غیررجسٹرڈ اراکین کی تفصیلات درج کی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی اس کارڈ کی بدولت زندگی آسان ہو گی اور باقاعدہ رجسٹریشن کے تحت ان کے مسائل حل کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کو بتایا گیا کہ رواں سال ساڑھے 4لاکھ نئے گیس میٹر لگے ہیں اور ہدف 6 لاکھ نئے میٹرز کا ہے، کابینہ کو بتایا گیا کہ اگلے سال 12لاکھ نئے میٹرز ہدف مکمل کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک پاکستان کی صرف 27فیصد آبادی پائپ گیس میسر ہے اور 67 فیصد لوگوں کو یہ گیس دستیاب ہی نہیں ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم اس میں ایسی اصلاحات لانا چاہتے ہیں جس سے ملک کی اکثریتی آبادی کو پائپ گیس کی سہولت فراہم کی جا سکے اور اس میں گیس ریٹ میں سبسڈی کا ازسرنو جائزہ لے کر نیا نظام وضع کیا جا رہا ہے تاکہ جن لوگوں کو گیس میسر نہیں ہے ان کو بھی یہ سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کیٹی کے 10مارچ 2021 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی، آٹو ڈس-ایبل سیرنج کی درآمد اور مقامی طور پر سامان کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد پر ٹیکسوں میں چھوٹ بھی شامل ہے۔فواد چوہدری نے بتایا کہ تیل کی چوری میں ملوث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف وزارت پیٹرولیم کارروائی عمل میں لائے گی اور تمام دستاب وسائل اور احتساب کے نظام کو بروئے کار لایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے تمام وفاقی سیکریٹریز کو مہینے میں کم از کم ایک بار بلوچستان کا دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہاں کے مسائل کو وہیں حل کرنے کا لائحہ عمل تیار ہو سکے اور اس سلسلے میں وزیر اعظم آفس پہلے ہی اعلامیہ جاری کرچکا ہے۔اس موقع پر وزیر صنعت و تجارت حماد اظہر نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹور کے لیے کابینہ نے 7.8ارب روپے کے رمضان پیکج منظور کر لیا ہے اور یہ 19 اشیا پر مشتمل ہے۔انہوں نے اشیا پر دی جانے والی سبسڈی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں موجودہ قیمت کے لحاظ سے آٹے پر 30.50روپے ڈسکانٹ، چینی پر 40 روپے فی کلو، گھی پر 43 روپے فی کلو، تیل پر 20 روپے فی کلو، دال 15 روپے کلو، دال مونگ پر 10 روپے کلو، دال ماش پر 10 روپے کلو، دال مسور پر 30 روپے کلو، سفید چنے پر 25 روپے، بیسن پر 20 روپے کلو، کھجوروں پر 20 روپے، چاول پر 10 روپے کلو، ٹوٹا چاول پر 12 روپے کلو اور مختلف مشروبات، دودھ اور مرچ پر بھی یہ سبسڈی دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پہلئے یوٹیلٹی اسٹورز پر صرف 5 اشیا پر سبسڈی دی جا رہی تھی لیکن رمضان میں پانچ سے بڑھ کر 19 اشیا پر یہ سبسڈی دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہماری حکومت آئی تھی تو اس کی سالانہ سیل 10ارب روپے ہے اور اس سال ہماری سیل 100ارب روپے کے قریب ہو گی اور اس سال کئی دہائیوں کے بعد ادارہ خسارہ میں نہیں رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کھاد کے حوالے سے ہم اعدادوشمار اکٹھا جمع کررہے ہیں لیکن لگ یہ رہا ہے کہ اس سال ربیع سیزن میں 10سال میں سب سے زیادہ کھاد استعمال کی ہے جو اچھی چیز ہے اور اس بلند شرح کے باوجود ہمیں یوریا درآمد نہیں کرنا پڑا کیونکہ ہم نے پچھلے سال بروقت دو چھوٹے یوریا کے پلانٹ چلا دیے تھے۔حماد اظہر نے کہا کہ بڑے پپیمانے کی صنعت کے اعدادوشمار بی موصول ہوا ہے جو بہت خوش ہے، جنوری میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی صنعت میں 9.1فیصد کی شرح نمو نظر آئی۔ان کا کہنا تھاک ہ مجموعی طور پر جولائی سے جنوری تک کے عرصے میں 7.8فیصد شرح نمو نظر آئی ہے اور ہماری صنعت مکمل استعداد کے ساتھ کام کرنے کے قریب جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ معشیت صحیح رخ پر جا رہی ہے، کرنٹ اکانٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گیا، ڈالر پیچھے کی طرف آیا ہے اور آج 156 روپے ٹریڈنگ کی اطلاعات ہیں جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں جو پچھلی حکومت نے تقریبا ختم کر دیے تھے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بوقت قرضوں کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں اور آئی ایم ایف پروگرام بھی بحال ہو گیا ہے، ایکسپورٹرز میں جوش و خروش نظر آ رہا ہے اور ایکسپورٹ کی نئی راہیں کھلتی نظر آ رہی ہیں جس سے روزگار بھی پیدا ہو گا، معیشت کا پہیہ بھی چلے گا اور ملک کی پیداوار بھی بڑھے گی۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.