حکومت تاجروں کی مشکلات کو سمجھتی ہے‘ وفاقی وزیر ملک امین اسلم

حکومت تاجروں کی مشکلات کو سمجھتی ہے‘ وفاقی وزیر ملک امین اسلم
بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے جلد اقدامات اٹھائے جائیں‘ خواجہ شاہ زیب اکرم
پاکستان میں سستی بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع ہیں‘ حکومت کو اقدامات اٹھانا چاہیے‘ خرم سعید
ملک امین اسلم اور ان کی وزارت کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘ مرزا عبدالرحمن
اسلام آباد(ویب نیوز )وفاقی وزیر ماحولیات ملک امین اسلم کی سربراہی میں ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس اسلام آباد میں ماحولیات سے متعلق اجلاس کا انعقاد۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی خواجہ شاہ زیب اکرم، نائب صدر سارک چیمبر سینیٹر حاجی غلام علی، چیئرمین کیپٹل آفس قربان علی اور کوآرڈینیٹر مرزا عبدالرحمن‘ سابق نائب صدور خرم سعید، محمد علی قائد، شیخ عبدالوحید، سجاد سرور، مدثر منصور، شیر نبی خان سمیت مختلف ایسوسی ایشنز و چیمبرز کے عہدیداران و ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے وفاقی وزیر کو تاجروں و صنعتکاروں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔خواجہ شاہ زیب اکرم سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے وفاق وزیر ماحولیات کا پاکستان کی ٹریڈ باڈیز سے ملاقات اور افطار ڈنر میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایف پی سی سی آئی عمران خان کے ویژن سے متفق ہے کہ ملک میں انڈسٹری کا پہیہ چلے تاکہ لوگوں کو روزگار ملے اور ایکسپورٹ میں خاطر خواجہ اضافہ ہو۔ انہوں نے وفاقی وزیر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے جائز مطالبات کو سنا جائے اور مسائل کے حل کیلئے جلد از جلد اقدامات اٹھائے جائیں۔سینیٹر حاجی غلام علی نائب صدر سارک چیمبر نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی ملک بھر کی بزنس کمیونٹی کا ادارہ ہے۔ جو حکومت اور تاجروں کے مابین ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ایف پی سی سی آئی کی تجاویز کو سنجیدہ لے اور بزنس کمیونٹی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ پاکستان کی بزنس کمیونٹی مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ اور پاکستان کی اقتصادی و معاشی پالیسیوں میں ایف پی سی سی آئی کو بھی شامل کیا جائے تاکہ بزنس کومینٹی کے سب سے بڑے ادارے کے سربراہ اور حکومت مل کر پاکستان کو ترقی کی نئی راہوں پر لے کر جا سکیں۔ پلاسٹک ویسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین آصف نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ہزار ٹن پلاسٹک ویسٹ کو ری سائیکل کر رہے ہیں جبکہ ڈیمانڈ 2ہزار ٹن ہے۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمارے ساتھ نرم رویہ رکھے تاکہ ملکی صنعت کو بہتر طریقے سے چلا کر ملک کی معاشی صورتحال کو بہتری کی جانب گامزن کیا جا سکے۔قربان علی چیئرمین ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس نے کہا کہ کرونا وباء اور لاک ڈاؤن جیسے اقدامات سے نہ صرف عوام بلکہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی اور خاص کر چھوٹے تاجر شدید متاثر ہونگے۔ حکومت کو اپنے فیصلوں میں ایف پی سی سی آئی کو بھی شامل کرنا چاہیے تاکہ دونوں ملکر ایسے فیصلے لیں جس سے پاکستان کی معاشی و اقتصادی صورتحال اور تاجروں پر کوئی فرق نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر خرم سعید نے بجلی مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سستی بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع ہیں۔ہوا، پانی، سورج کی روشنی سے سستی ترین بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو پاکستان میں ایسے منصوبوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ مسائل کے خاتمہ اور سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے تاکہ ہوا، پانی اور سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرکے اس اہم مسئلہ کو حل کیا جائے۔ سستی بجلی کی فراہمی سے ملکی صنعتوں کی ترقی ہوگی اور پاکستانی مصنوعات بآسانی کم نرخوں میں ملکی و عالمی مارکیٹوں میں دستیاب ہو سکیں گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ماحولیات ملک امین اسلم نے کہا کہ حکومت تاجروں کی مشکلات کو سمجھتی ہے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کو اولیت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاربن کی درجہ بندی ایک فیصد ہے۔ ہم نے وزیر اعظم عمران خان کے نظریہ ملک میں جنگلات کے فروغ اور بلین ٹرین سونامی جیسے اہم منصوبے کو دیکھ کر سعودی عرب بھی پاکستان کی خدمات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے 30جنگلات تھے جنہیں ہم نے 45تک پہنچا دیا ہے اور 2030تک پاکستان ماحولیات کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آجائے گا۔ ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس کے کوآرڈینیٹر مرزا عبدالرحمن نے ملک امین اسلم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اور ان کی وزارت کی خدمات قابل قدر ہیں۔ ملک امین اسلم اپنے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وزیرا عظم عمران خان نے دنیا بھر کے ممالک کی عالمی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کیلئے ملک امین اسلم کو چنا۔